بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

روڈ ایکسیڈنٹ میں مرنے والے کی موت کا ذمہ دار کون؟

سوال

جو بندہ حادثے کی وجہ سے فوت ہو جائے تو جس کی وجہ سے حادثہ (ایکسیڈنٹ )ہوا ہے وہ مرنے والے کی موت کا ذمہ دار ہے یا مرنے والا خود اپنی موت کا ذمہ دار ہے راہنمائی فرمائیں ۔

جواب

جو شخص کسی کے قتل کا مباشر ہو یعنی براہ راست اس کے عمل کی وجہ سے موت واقع ہوئی ہو، عمل اور موت کے درمیان فاعل مختار کا فعل نہ ہو تو قتل کرنے والے پر ضمان آئے گا :”مثلًا ڈرائیورطے شدہ رفتار سے بہت تیز گاڑی چلا رہا ہو اور ڈرائیور کی غلطی کی وجہ سے کسی آدمی کی موت واقع ہوجائے یا کوئی آدمی کسی کو چلتی گاڑی کے آگے دھکا دے دے وغیرہ ”تو ایسی صورت میں قتل کی نیت ہونے کی صورت میں قصاص آئے گا ورنہ عاقلہ پر دیت آئے گی ۔البتہ جس آدمی کی وجہ سے موت واقع ہوئی ہے وہ اگر مباشر نہیں ہے بلکہ اس کے اور قتل کے درمیان فاعل مختار کا فعل ہے :”جیسے اگرڈرائیور قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے ڈرائیونگ کر رہا ہو اور کوئی آدمی خود گاڑی کے سامنے آ جائے اور ڈرائیور کے لیے اس کو بچانا ممکن نہ ہو ”تو ایسی صورت میں ضمان نہیں آئے گا۔ یہ ایک اصولی سا جواب ہے ۔روڈ ایکسیڈنٹ کی وجہ سے موت کی بے شمار صورتیں ہیں ، اس لیے پیش آمدہ مکمل تفصیلی صورت لکھ کر مسئلہ دوبارہ معلوم کر لیں ۔
هداية (4/ 606) مكتبة الحرمين
“ومن سار على دابة في الطريق فضربها رجل أو نخسها فنفحت رجلا أو ضربته بيدها أو نفرت فصدمته فقتلته كان ذلك على الناخس دون الراكب” هو المروي عن عمر وابن مسعود رضي الله عنهما، ولأن الراكب والمركب مدفوعان بدفع الناخس فأضيف فعل الدابة إليه كأنه فعله بيده، ولأن الناخس متعد في تسبيبه والراكب في فعله غير متعد فيترجح جانبه في التغريم للتعدي، حتى لو كان واقفا دابته على الطريق يكون الضمان على الراكب والناخس نصفين لأنه متعد في الإيقاف أيضا
قال: “وإن نفحت الناخس كان دمه هدرا” لأنه بمنزلة الجاني على نفسه “وإن ألقت الراكب فقتلته كان ديته على عاقلة الناخس” لأنه متعد في تسبيبه وفيه الدية على العاقلة.
بدائع الصنائع (10\345) العلمية
(ولو) كان لابسا سيفا فسقط على غيره فقتله أو سقط عنه ثوبه أو رداؤه أو طيلسانه أو عمامته، وهو لابسه على إنسان فتعقل به فتلف فلا ضمان عليه أصلا؛ لأن في اللبس ضرورة؛ إذ الناس يحتاجون إلى لبس هذه، والتحرز عن السقوط ليس في وسعهم، فكانت البلية فيه عامة فتعذر التضمين، ولا ضرورة في الحمل، والاحتراز عن سقوط المحمول ممكن أيضا، وإن كان الذي لبسه مما لا يلبس عادة فهو ضامن
بدائع الصنائع (10\350) العلمية
 ولو نفرت الدابة من الرجل أو انفلتت منه فما أصابت في فورها ذلك – فلا ضمان عليه لقوله – عليه الصلاة والسلام – «العجماء جبار» أي البهيمة جرحها جبار ولأنه لا صنع له في نفارها وانفلاتها، ولا يمكنه الاحتراز عن فعلها، فالمتولد منه لا يكون مضمونا
الدر المختار(10\291) رشيدية
ومن ضرب دابة عليها راكب أو نخسها بعود بلا إذن الراكب فنفحت أو ضربت بيدها شخصا آخر غير الطاعن أو نفرت فصدمته وقتلته ضمن هو أي الناخس لا الراكب وقال أبو يوسف: يضمنان نصفين كما لو كان موقفا دابته على الطريق لتعديه في الإيقاف أيضا، وكما لو كان بإذنه ووطئت أحدا في فورها فدمه عليهما؛ ولو نفحت الناخس فدمه هدر ولو ألقت الراكب فقتلته فديته على عاقلة الناخس ثم الناخس إنما يضمن لو الوطء فور النخس وإلا فالضمان على الراكب لانقطاع أثر النخس
رد المحتار(10\291) رشيدية
(لا الراكب) لأنه غير متعد فترجح جانب الناخس في التغريم للتعدي
رد المحتار(10\292) رشيدية
قوله (فديته على عاقلة الناخس) أي لو بغير إذنه فلو به لا يضمن
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس