مفتیانِ کرام سے ایک مسئلہ کے بارے میں راہنمائی درکار ہے کہ مجھے میرے شوہر نے مارا تھا،میں اپنی امی کے ساتھ گھر آئی ،تھوڑی دیر بعد ہی میرا شوہر ،میری ساس ،میرے شوہر کا کزن اور دو لوگ ان کے ساتھ اور تھےمیرا سامان لے کر ہمارے گھر آئے ،میں اور میری امی گھر پر تھے ، ان سب کے سامنے میرے شوہر نے میرا نام لے کر مجھے یوں طلاق دی “کومل!میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں “۔
اگر واقعتاً سائلہ کے شوہر نے سوال میں ذکر کردہ الفاظ ہی سے طلاق دی ہے تو سائلہ پر تین طلاق واقع ہو کر حرمتِ مغلطہ ثابت ہوگئی ہے اور دونوں (میاں بیوی ) ایک دوسرے پر حرام ہو چکے ہیں ، اب ان کا اکھٹے رہنا درست نہیں اور خاتون عدتِ طلاق گزارنے کے بعد اپنے اولیاء کی سرپرستی میں دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ۔
قال الله سبحانه وتعاليٰ:[ البقرة:٢٣٠]
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ
أحكام القرآن للجصاص (2/ 83)دار احیاء التراث
قوله تعالى فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره فحكم بتحريمها عليه بالثالثة بعد الاثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في اطھار فوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو غير مسنون ومباح أو محظور
صحيح البخاري (٢/٧٩٢)
وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك»
الفتاوي الولو الجية(2/ 100) بيروت
ولا تحل المرأة بعد ما وقع عليها ثلاث تطليقات حتي تنكح زوجا غيره ويدخل عليها