بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دعا میں مناسب الفاظ کا استعمال کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اِس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم اللہ تعالٰی سے دعامانگتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اے اللہ میں فلاں چیز کا طلب گا ر ہوں اگر اِس کام میں بہتری ہے تو مجھے عطا کر اگر بہتری نہیں ہے تو عطا نہ کر ، ہم یہ کیوں نہیں کہتے کہ اے اللہ ہمیں بہتر کر کے فلا ں چیز عطا کر ؟

جواب

سوال میں دیئے گئے دونوں طرح کے الفاظ سے دعا مانگنا جائز ہے بشرطیکہ کسی ناجائز کام یاحرام چیزکی دعا نہ ہولیکن اس طرح دعا کرنا ( کہ مجھے فلاں چیز ہی بہتر کر کے عطا کر) اس میں اللہ تعالٰی سے اپنی مرضی ہی منوانے کاپہلو ہے جو عبدیت کا تقاضا نہیں اس لئے ان الفاظ سے دعا کرنا مناسب نہیں البتہ احادیث میں سوال میں دی گئی پہلی والی دعا کے الفاظ ( کہ اے اللہ اگر آپ کے علم کے مطابق اس میں بہتری ہے تو عطا کر ۔۔۔)کثرت سے ملتے ہیں اس لئے کہ اس میں اپنے معاملے کو اللہ تعالٰی کی طرف سپرد کرنا ہے اور اللہ تعالٰی کے علم پررضا مندی ہے نیز اس میں عبدیت کا بھی اظھار زیادہ ہوتا ہے لہٰذا ان الفاظ سے دعا کرنا زیادہ مناسب ہے ۔
صحيح البخاري (2\944) مكتبة محمدية
 اللهم إني أستخيرك بعلمك، وأستقدرك بقدرتك، وأسألك من فضلك العظيم، فإنك تقدر ولا أقدر، وتعلم ولا أعلم، وأنت علام الغيوب، اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري – أو قال: في عاجل أمري وآجله – فاقدره لي، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري – أو قال: في عاجل أمري وآجله – فاصرفه عني واصرفني عنه، واقدر لي الخير حيث كان، ثم رضني به، ويسمي حاجته
صحيح البخاري (2\1041) مكتبة محمدية
اللهم إن كنت تعلم في خيرا فأرني رؤيا
مرقاة المفاتيح (3\207) مكتبة امدادية ملتان
قال الطيبي: معناه اللهم إنك تعلم، فأوقع الكلام موقع الشك على معنى التفويض إليه.: والرضا بعلمه فيه، وهذا النوع يسميه أهل البلاغة (تجاهل العارف) ، و (مزج الشك باليقين) ، ويحتمل أن الشك في أن العلم متعلق بالخير أو الشر، لا في
أصل العلم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس