میری شادی(نکاح) شریعت کے مطابق ایک مسلمان لڑکے کےساتھ کراچی میں ہوااور اس شادی کے نتیجے میں میری ایک بیٹی پیداہوئی بعض ناگزیر وجوہات کی بناپر ہمارے درمیان مجھے طلاق ثلاثہ واقع ہوگئی ۔اور جس وقت طلاق واقع ہوئی اس وقت بیٹی میری تحویل میں تھی ۔یہ کہ ہمارے درمیان ایک مصالحت نامہ تیار کیاگیا اس کی شق نمبر 5میں بیٹی کواس کے باپ کی تحویل میں دینے کے متعلق تحریر کیا گیا ہے اسی کی روشنی میں اپنا یہ بیان حلفی تحریر کررہی ہوں جس میں یہ بات حلفیہ کہہ رہی ہوں کہ میں نے اپنی بیٹی کی بہتر مستقبل بہترین ماحول کی خاطر اس کوآج اس کے والد کی تحویل میں دے دیا ۔آج کے بعد میری بیٹی کے ہر معاملے میں جس میں اس کی پیدائش کی رجسٹر یشن،فارم ‘ب’میں اس کی رجسٹریشن ،اسکول میں اس کی رجسٹریشن مکمل خود مختارہونگے اور بالاامور کو اپنی سرپرستی میں انجام دے سکتے ہیں جس پر مجھے کوئی اعتراض ہوگا ۔
یہ کہ میری بیٹی کے والد اپنی بیٹی سے متعلق اگر کوئی بڑا فیصلہ کرتے ہیں تو ایسی صورت میں میری بیٹی کے والد فیصلہ کر نے سےپہلے مجھے اعتماد میں لینے کے پابند ہونگے جس پر وہ اعتراض کے مجاز نہ ہو نگے ۔
یہ کہ میری بیٹی کے والد اپنے ساتھ لاہور میں رکھنے کے مجاز ہونگے میں اس پر بھی اعتراض کی مجاز نہ ہونگی یہ کہ میری بیٹی کے والد مصالحت نامہ کی شق نمبر 5 کے مطابق میری بیٹی سے اس کی ملاقات کرانے کے پابند ہیں اوروہ اپنی نانی، نانا سے بھی ملاقات کرنا چاہے تو اس شق کے مطابق وہ کروانے کے پابند ہیں اور اس وقت کسی حیل وحجت سے کام لینے کے مجاز نہ ہونگے ۔
صورتِ مسئولہ میں شرعاًبیٹی کاولی اور سرپرست اس کاوالدہے،بیٹی کی شادی، تعلیم وغیرہ امور کی ذمہ داری شرعاً اسی پرعائدہوتی ہےاور ان امور میں فیصلہ کرنا اسی کا حق ہے، اسے بیٹی کی والدہ سے مشورہ لینےپرمجبورنہیں کیا جاسکتا تاہم اگروہ اپنی خوشی سے اپنے آپ کواس کاپابندبنالے تواس کی اجازت ہے ، اسی طرح بیٹی کو وقتا فوقتااپنی والدہ ، نانا ،نانی سے ملاقات کرنے کی شرعاً اجازت ہےتاہم آمدورفت کے اخراجات والد کے ذمہ لازم نہیں، وہ اگر اپنی خوشی سے اداکریں تودرست ہے۔