بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مسجد کے تابع مدرسہ میں مسجد کی چیزوں کا استعمال کرنا

سوال

یہ ہے کہ مسجد کے متصل ایک کمرہ کو صاحب خانہ نے(جو کہ انتظامیہ کے فرد ہیں)بچیوں کی تعلیم کے لیے انتظامیہ مسجد ومدرسہ کو استعمال کی اجازت دی ہے۔مدرسہ کا زائد سامان مثلا تپائیاں،دریاں وغیرہ اس کمرہ میں استعمال کی جا سکتی ہیں یا نہیں؟ بچیوں کو پڑھانے والی معلّمہ صاحبہ کا وظیفہ انتظامیہ مسجد ہی ادا کرے گی؟
مسجد ومدرسہ کا فنڈایک ہی ہے مقیم طلبہ نہیں ہیں، اس مشترکہ فنڈسے بجلی کا بل اور حفظ کے مدرس کو تنخواہ دی جاتی ہے اور عموماً معطی کی طرف سے اجازت ہے کہ انتظامیہ اپنی صوابدید سے مسجد /مدرسہ میں خرچ کرلے۔

جواب

مذکورہ صورت میں چونکہ بچیوں کی درس گاہ بھی مسجد کے تابع اور اصل مدرسہ کا حصہ ہے۔اس لیے اس میں مسجد کے عمومی فنڈ سے لی گئی تپائیاں اور دریاں وغیرہ استعمال کی جا سکتی ہیں۔
الدرالمختار،العلامةعلاءالدين الحصكفي(م:1088هـ)(4/367)سعید
(قوله: ثم ما هو أقرب لعمارته إلخ) أي فإن انتهت عمارته وفضل من الغلة شيء يبدأ بما هو أقرب للعمارة وهو عمارته المعنوية التي هي قيام شعائره قال في الحاوي القدسي: والذي يبدأ به من ارتفاع الوقف أي من غلته عمارته شرط الواقف أولا ثم ما هو أقرب إلى العمارة، وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد، والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم، ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح
 البحرالرائق،العلامة ابن نجيم المصري(م:970هـ)(5/230) دارالكتاب الإسلامي
   قال والذي يبتدأ به من ارتفاع الوقف عمارته شرط الواقف أو لا ثم ما هو أقرب إلى العمارة وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم ثم السراج والبساط كذلك إلى آخرالمصالح.اهـ. وظاهره تقديم الإمام والمدرس على جميع المستحقين بلا شرط والتسوية بالعمارة
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس