بال سفیدہوجانے کی صورت میں خالص سیاہ رنگ کے خضاب کے علاوہ دیگر رنگوں مثلاً خالص سُرخ یاسرخی مائل سیاہ خضاب لگانا بلاشبہ جائز بلکہ مستحب ہے البتہ سیاہ خضاب لگانےمیں کچھ تفصیل ہے کہ بڑھاپے میں بال سفیدہوجانے کی صورت میں اگرکوئی مجاہدلگائے تاکہ دشمن پر رُعب ہوتو بالاتفاق جائز ہے ،اور اگر کسی کو دھوکہ دینے اور اسکے سامنے اپنے کو جوان ظاہر کرنے کیلئے کوئی شخص لگائے توناجائز اور حرام ہے ،اور اگرکوئی شخص اپنی بیوی کو خوش کرنے کیلئے محض زینت کے طور پر استعمال کرے تو راجح قول کے مطابق مکروہِ تحریمی ہے ۔
جوانی میں بال سفیدہونےکی صورت میں سیاہ خضاب لگانےکےبارےمیں عباراتِ فقہاءمیں کوئی صریح حكم ہمیں نہیں ملا، البتہ بڑھاپےمیں سیاہ خضاب لگانےکی ممانعت کی جو علت فقہاءِ کرام نےبیان کی ہےوہ خداع اور دھوکہ ہے،اب ظاہرہے کہ جوانی میں بال سفیدہوجانے کی صورت میں سیاہ خضاب لگانے میں کسی قسم کادھوکہ یاحقیقت کوچھپانانہیں ہے بلکہ حقیقت کا اظہار ہے کہ ابھی بال سفیدہونے کی عمر نہیں ہوئی اور بالوں کاسیاہ ہونا طبعی عمرکا تقاضاہے نیز اس صورت میں بالوں کا سفیدہوجانا کسی بیماری کی وجہ سے ہوتاہے اس لئے اگر کسی شخص کےوقت سے پہلے بال سفیدہوجائیں کہ اس عمر میں عام طورپربال سفید نہیں ہوتے تو اس کے لئےاس عیب کوچھپانے کے لئے سیاہ خضاب لگانے کی گنجائش ہے۔