گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں سے براہ راست گاڑی خریدنے کے لئے ایڈوانس جمع کروانے کے بعد دو سے چھ ماہ انتظار کرنا پڑتاہے اس صورت حال کی وجہ سے مختلف بااختیار /سادہ ڈیلر ز اور انویسٹر نے گاڑیاں کمپنی میں بک کر واکر مختلف شور وموں وغیرہ پر بیچنے کے لئے کھڑی کی ہوتی ہیں اب یہ گاڑیاں کمپنی کی قیمت سے زیادہ میں فروخت کی جاتی ہیں جس کے لیے مارکیٹ میں مخصوص لفظ (اون)بولاجاتاہے، اس (اون)کےمارکیٹ کے لحاظ سے مختلف ریٹ ہوتے ہیں جو کم زیادہ ہوتے رہتے ہیں۔
نمبر1:۔کیامارکیٹ میں موجود گاڑی کو کمپنی پر ائس سے 50،000زیادہ (اون)کہہ کر خریدنایابیچناجائز ہے یا اس کا کیا شرعی متبادل ہے ؟
نمبر2:۔ڈیلر کا کہنا ہے کہ میں چھ ماہ کے بجائے آپ کو ایک ماہ میں گاڑی منگواکر دوں گامگر 50،000 (اون)لوں گا تو کیا اس طرح ڈیلر سے گاڑی خریدنا جائز ہے جبکہ ڈیلر کے قبضے میں ابھی گاڑی موجود نہیں ہے اس نے یا اس کے کسی دوسرے انویسٹر نے گاڑی بنانے والی کمپنی سے گاڑی بک کروایا ہوا ہے۔
نمبر3:- ڈیلر نے گاڑی بنانے والی کمپنی سے منگوانی ہوتی ہے اور وہ گاڑی کی فوری ڈیلیوری پر قادر ہوتے ہیں تو وہ گاڑی کی اصل قیمت پر 50،000(اون)کے نام سے اضافی مانگتے ہیں تو کیا ان ڈیلر سے اضافی 50،000(اون) دےکر گاڑی خریدنا جائزہے ؟
نمبر(1،2،3)۔مذکورہ صورت میں ڈیلر کے لئے گاڑی کو فروخت کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک گاڑی اس کی ملکیت اور قبضے میں نہ آجا ئے ،البتہ قبضے میں آنے کے بعد اس کو (اون)کے ساتھ بیچنے میں کوئی حرج نہیں ۔