بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ڈیجیٹل اور پرنٹڈ(غیر ڈیجیٹل)تصویر کاحکم ؟

سوال

حضرت یہ بتائے کہ جاندار کی تصویر کا استعما ل بغیر کسی مجبوری کے کس حد تک جائز ہے ؟اور شریعت میں اس کی کتنی گنجائش ہے؟پرنٹ اور ڈیجیٹل دو نوں تصاویر کاحکم ذکر کردیں ۔

جواب

آپ کے سوال کا تعلق تصویر کی کسی خاص صورت سے متعلق نہیں ہےاور مقصد بھی واضح نہیں،جبکہ یہ بحث، اس کی صورتیں اوران کے احکامات مختلف ہیں۔اس لئے یہاں پر اس کا اصولی سا جواب اختصار کے ساتھ تحریر کیاجاتاہے۔ کسی ضرورت اور سخت حاجت کے بغیر جاندار کی تصویر بنانا اور استعمال کرنا اسلام میں ناجائزاور حرام ہے۔ یہ حکم بہت سی احادیثِ صحیحہ،صحابہ کرام(رضی اللہ عنہم ) اورتابعین عظام(رحمہم اللہ ) کےاقوال اوران کے عمل سےثابت ہے۔ البتہ بےجان اشیاءکی تصویرمذکورہ حرمت سے مستثنیٰ ہے۔ شرعی نقطہ نظر سے تصویر سے متعلق مزید تفصیل یہ ہےکہ
شرعاً ممنوع تصویر وہ ہے جو کسی جاندار کی ہو، اورایسے سر والی ہوکہ جس میں کان ،ناک اورآنکھ وغیرہ اعضاء صاف بنے ہوئے ہوں۔ لہٰذا جس تصویر میں سَر نہ ہو،یعنی صرف دھڑ ہو اور سر کٹاہوا ہو، یا سر ہو مگر اس میں آنکھ ، ناک ، کان صاف بنے ہوئے نہ ہوں بلکہ یہ اعضاء مٹے ہوئے ہوں ، یا سر کے اوپر کوئی چیز لگاکر اس کو چھپایا گیا ہویا پوری تصویر نہ ہو بلکہ تصویر کے اعضاء میں سے کوئی ایک عضو ہو؛مثلاً :صرف آنکھ،کہنی،ہاتھ،بازو،پیر ،پیٹھ وغیرہ ، یا پشت کی جانب سے لی گئی تصویر ہو جس میں چہرہ سامنے نہ ہوتو ایسی تصاویر شرعاً ممنوع تصویر میں داخل نہیں ہیں ۔ (ماخذہ :جواہر الفقہ،مفتی محمدشفیع عثمانی(1362ھ) (7/246)مکتبہ دار العلوم کراچی، المقالات الفقہیہ ،مفتی محمدرفیع عثمانی(8/155)مکتبہ دار العلوم کراچی۔ نیز بہت چھوٹی تصویرجو زمین پر رکھی ہوں اور کو ئی متوسط بینائی والا آدمی کھڑا ہو کر دیکھے تو تصویر کے اعضاءواضح دکھائی نہ دیں تو ایسی تصویر کا گھر میں رکھنا اور استعمال کر نا جائز ہے، اگر چہ بنانا اس کا بھی نا جائز ہے

(جواہر الفقہ بحوالہ درالمختار،شامی ،مکروہات الصلوٰۃ،ص258)ملاحظہ فرمائیے درج ذیل عبارات

صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل(م: 256هـ)(3/63)دارطوق النجاة
عن القاسم بن محمد، عن عائشة أم المؤمنين رضي الله عنها: أنها أخبرته أنها اشترت نمرقة فيها تصاوير، فلما رآها رسول الله صلى الله عليه وسلم قام على الباب، فلم يدخله، فعرفت في وجهه الكراهية، فقلت: يا رسول الله أتوب إلى الله، وإلى رسوله صلى الله عليه وسلم ماذا أذنبت؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما بال هذه النمرقة؟» قلت: اشتريتها لك لتقعد عليها وتوسدها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن أصحاب هذه الصور يوم القيامة يعذبون، فيقال لهم أحيوا ما خلقتم» وقال: «إن البيت الذي فيه الصور لا تدخله الملائكة»
مرقاة المفاتيح،لملاعلي القاري (م:1014هـ)(13 / 244)دارالفکر
فلأنه إذا محى الرأس وما به من صورة الوجه المميز به فلا شك أنه يصير على هيئة الشجرة وهو أمر مشاهد… فإن كانت صغيرة أو ممحوة الرأس لا بأس به هذا وفي شرح السنة فيه دليل على أن الصورة إذا غيرت هيئتها بأن قطعت رأسها أو حلت أوصالها حتى لم يبق منها إلا الأثر على شبه الصور فلا بأس به وعلى أن موضع التصوير إذ نقض حتى تنقطع أوصاله جاز استعماله
  شرح معاني الآثار ،أبوجعفرأحمد بن محمد الطحاوی(م:321ھ) (4/287)عالم الكتب
عن أبي هريرة قال استأذن جبريل عليه السلام على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أدخل فقال كيف أدخل وفي بيتك ستر فيه تماثيل خيل ورجال فإما أن تقطع رؤوسها وإما أن تجعلها بساطا فإنا معشر الملائكة لا ندخل بيتا فيه تماثيل فلما أبيحت التماثيل بعد قطع رؤوسها الذي لو قطع من ذي الروح لم يبق دل ذلك على إباحة تصوير ما لا روح له وعلى خروج مالا روح لمثله من الصور مما قد نهى عنه في الآثار التي ذكرنا
السنن الكبرى،أبو بكر أحمد بن الحسين البيهقي(م:458هـ)(7/270)دارالکتب العلمیة
عن ابن عباس رضى الله عنهما قال : الصورة الرأس فإذا قطع الرأس فليس بصورة
  الدرالمختار،علاء الدين محمد بن علي الحصكفي(م:1088ھ) (1/648) سعید

لا يكره (لو كانت تحت قدميه) أو محل جلوسه لأنها مهانة (أو في يده…. (أو مقطوعة الرأس أو الوجه)

 مروجہ ڈیجیٹل کیمرے یا موبائل سےتصاویریاویڈیو بنانے سے متعلق مسئلہ میں کچھ تفصیل یہ ہے کہ ڈیجیٹل کیمروں یا موبائل کے ذریعے سکرین پرجو شکلیں نظر آتی ہیں،جب ان شکلوں کاپرنٹ لے لیا جائے،یا انہیں پائیدار طریقے سے کسی چیز (کاغذ،کپڑا وغیرہ ) پر نقش کر لیا جائے تو ان پر شرعاً تصویر کے احکام جاری ہوں گےاور وہ بالاتفاق ناجائز اور حرام ہے ۔ البتہ جب تک ان کا پرنٹ نہ لیا گیا ہو،یا انہیں پائیدار طریقے سے کسی چیز پر نقش نہ کیا گیا ہوتو ان کے بارے میں علماءِ عصر کی آراء مختلف ہیں

        :بعض علماء انہیں بھی تصویر قرار دیتے ہیں ،اور تصویر کے متعلق تمام احکام کا اطلاق ان پر بھی کرتے ہیں ۔

           :بعض علماء کے نزدیک ان پر تصویر کے احکام کااطلاق نہیں ہوتا۔

           3:بعض علماء کہتے ہیں کہ وہ ان کی رائے میں تصویر تو ہیں ،لیکن چونکہ ان کے بحکم تصویر ہونے یا نہ ہونے میں ایک سے زائد فقہی آراء موجود ہیں،لہٰذا مجتہد فیہ ہونے کی بنا پربوقتِ حاجتِ شرعیہ،مثلاً جہاد وغیرہ کے موقع پر ان کے استعمال کی گنجائش ہے۔

  ہمارے نزدیک دوسری رائے راجح اور مضبوط ہےکہ جب تک ان کا پرنٹ نہ لیا گیا ہو یا پائیدار طریقے  سے کسی چیز پر نقش نہ کیا گیا ہو،ان پر تصویر کے احکام کا اطلاق نہیں ہوگا۔کیونکہ یہ مکمل عکس ہے،نہ سایہ؛بلکہ ظل اور سایہ سے زیادہ مشابہت ہےاور یہ آئینے میں نظر آنے والے عکس کی طرح روشنی کی ایسی شعاعیں ہیں ؛جن کامستقل ہمیشہ اپنا کو ئی وجوداور استقرار نہیں ہے ۔اس لئے اس کو عین تصویر قرار دینے میں تامل ہے۔تاہم اگر احتیاط کی جائے تو بہتر ہے اور دوسری رائے پر عمل کرنا بھی جائز ہے۔

پھر ڈیجیٹل کیمرہ کی تصویر سے متعلق مسئلہ میں دو باتیں الگ الگ ہیں

:ڈیجیٹل کیمرہ سے لی گئی نفس تصویر کا شرعی حکم

:ڈیجیٹل کیمرہ سے ناجائز تصاویر یا ویڈیوز بنا نا

  نفس تصویر سے متعلق حکم اوپر ذکر کیا جاچکا کہ جب تک پرنٹ نہ لیا گیا ہو یا اسے پائیدار طریقے سے کسی چیز پر نقش نہ لیا گیا ہو اس وقت تک وہ حرام تصویر میں داخل نہیں ، بشرطیکہ اس تصویر یا ویڈیومیں نا محرم افراد اور فحش مناظر نہ ہو ں ۔ البتہ دوسری صورت سے متعلق یہ جا ننا ضروری ہے کہ ڈیجیٹل کیمرہ کی جس تصویر کی گنجائش دی گئی ہے اس سے مراد اس چیز کی تصویر ہے جس کو خارج میں بغیر تصویر کے دیکھنا جائز ہے ۔ اور جس چیز کو خارج میں بغیر تصویر کے دیکھنا جا ئز نہیں اس کی تصویر یا ویڈیو بنانا بھی جائز نہیں ۔

            لہٰذاڈیجیٹل یا نان ڈیجیٹل کیمرہ کے ذریعہ سے نامحرم افراد کی تصویر لینا یا فحش اور نا جائز مناظر کی تصاویر محفوظ کر نا یا موسیقی کے ساتھ مناظر کو محفوظ کر نا اور دیکھنا شرعا ًجا ئز نہیں ہے ۔ البتہ ویڈیو اور مناظر کوکسی معتبر ضرورت کی وجہ سے کیمرہ کے ذریعہ محفوظ کرنا اورسکرین پر دیکھنا جائز ہے،بشرطیکہ  اس میں کوئی بذاتِ خود ناجائز منظر نہ ہواورجائز مقصد مثلاً تعلیم کے لیے اسے استعمال کیا جائے۔

  نیز ڈیجیٹل کیمرہ سے بنا ئی گئی ایسی ویڈیو جس میں جا ئز حدود میں رہتے ہو ئے، تفریحی مواد ہو اسے دیکھنا شرعاً جا ئز ہے ۔ لیکن جس ویڈیو کے اندر نا محرم خواتین کی تصویر ہو یا مو سیقی ہو یا فحش منا ظر ہو ں اس تفریحی ویڈز کو دیکھنا شرعاًجا ئز نہیں ہے ۔

مشكاة المصابيح، محمد بن عبد الله الخطيب(م:741ه)(2/385)اسلامی کتب خانة
عن عبد الله بن مسعود قال سمعت رسول الله يقول أشد الناس عذابا عند الله المصورون
تكملة فتح الملهم، مفتی محمدتقی العثمانی(4/164) دارالعلوم کراتشی
أما التلفزيون والفديوفلا شك فى حر مة استعمالها بالنظر إلى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة….. ولكن هل يتأتى فيهما حكم التصوير بحيث إذا كان التلفزيون والفيديو خاليا من هذه المنكرات بإسرها هل يحرم بالنظر إلى كونه تصويرا؟ فإن لهذا العبدالضعيف عفا الله عنه فيه وقفة وذلك لأن الصورة المحرمة ما كانت منقوشة أو منحوتة بحيث يصبح لها صفة الاستقرار على شئ وهى الصورة التى كان الكفار يستعملونها للعبادة. أما الصورة التى ليس لها ثبات واستقرار وليست منقوشة على شئ بصفة دائمة فإنها بالظل أشبه منها بالصورةويبدو أن صورة التلفزيون والفيديو لا تستقرعلى شئ فى مرحلة من المراحل إلا إذاكان فى صورة”فيلم”فإن كانت صورة الإنسان حية بحيث تبدوعلى الشاشةفى نفس الوقت الذى يظهرفيه الإنسان أمام الكيمرا فإن الصورة لاتستقر على الكيمرا ولا على الشاشةوإنماهى أجزاءکھربائیۃ تنتقل من الکمیرا إلی الشاشۃوتظھرعلیھا بترتیبھا الأصلی،ثم تفنی وتزول وأما إذا احتفظ بالصورۃ فی شریط الفدیو،فإن الصورلاتنقش علی الشریط وإنماتحفظ فیھا الأجزاءالکھربائیۃ التی لیس لھاثبات ولا استقرارعلی الشاشۃ، وإنما الترتیب الطبعی، ولکن لیس لھاثبات ولا استقرار علی الشاشۃ، وإنماھی تظھر وتفنی…  وعلى هذافتنزيل هذه الصورة منزلةالصورة المستقرة مشكل
شرح النووي ،محيي الدين يحيى بن شرف النووي(م: 676هـ)(14/81(دارإحياء التراث العربي
قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صورة الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث وسواء صنعه بما يمتهن أو بغيره فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى وسواء ما كان فى ثوب أو بساط أودرهم أو دينار أو فلس أو إناء أو حائط أو غيرها

ملحوظہ:         واضح رہے  ڈیجیٹل تصویر کے بارےمیں راجح  مؤقف کا  مطلب یہ ہے کہ اس پر تصویر کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔ اس کا یہ مطلب لینا ہر گز درست نہیں کہ ڈیجیٹل تصویر  کے استعمال میں اگرشرعاً   دیگر مفاسد پائے جائیں  تب بھی اس کا استعمال درست ہو گا، بلکہ ایسی صورت میں اگر چہ اس پر تصویر کے احکام جاری نہ ہوں لیکن ان مفاسد کے پائے جانے کی وجہ سے اس کا استعمال ممنوع قرار دیا جائے گا۔لہٰذا جن اشیاء کو خارج میں دیکھنا منع ہے ان کی تصاویر اور ویڈیو دیکھنا بھی ناجائز ہو گا۔صرف اس بات کا سہارا لیتے ہوئے کہ اس پر تصویر کے احکام جاری نہیں ہو تے اس  کے استعمال کے مفاسد کو نظر انداز کرنا درست نہیں ہےجیساکہ اس کی تفصیل اوپر کی جاچکی ہے۔

   الدرالمختار،علاء الدين محمد بن علي الحصكفي(م:1088ھ)(1/648)سعید
 (أو كانت صغيرة) لا تتبين تفاصيل أعضائها للناظر قائما وهي على الأرض، ذكره الحلبي
                           رد المحتار،ابن عابدين الشامي(م:1252ھ)(1/648)سعید
 (قوله لا تتبين إلخ) هذا أضبط مما في القهستاني حيث قال بحيث لا تبدو للناظر إلا بتبصر بليغ كما في الكرماني، أو لا تبدو له من بعيد كما في المحيط ثم قال: لكن في الخزانة: إن كانت الصورة مقدار طير يكره، وإن كانت أصغر فلا
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس