ایک دن میں کسی کام پر سوات جارہا تھا کہ گھر میں والدہ اور بیوی کی لڑائی شروع ہو گئی۔ میں گھر کے باہر کھڑا تھا، اندر آیا اور دونوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ خاموش نہیں ہوئے تو میں نے بیوی کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر میری کوئی غلطی ہے تو میرے طرف سے تجھے طلاق اور لفظ طلاق یعنی طلاق ، طلاق ، طلاق تین دفعہ کہا واضح رہے کہ والدہ اور بیوی کی لڑائی اس بات پر شروع ہوئی تھی کہ بیوی نے مجھے کہا کہ آپ سوات نہ جائے یا پھرمجھے ساتھ لے کر جائے میں نے کہا کہ میں نہیں لے کر جاسکتا، والدہ اس کو سمجھارہی تھی کہ اس کا کام ہے اس نےجانا ہے اس پر دونوں لڑ پڑے۔ کیا مذکورہ الفاظ سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
سوال میں ذکر کردہ صورتِ حال اور سائل سے زبانی استفسار سے معلوم ہو اکہ سائل کا طلاق کےمذکورہ الفاظ سے مقصد یہ تھا کہ :”میرے سوات جانے پر آپ دونوں کے درمیا ن لڑائی میں اگر میری غلطی ہے تو تجھے طلاق طلا ق طلاق”اگر واقعتاً صورتِ حال یہی ہے تو اس میں بظاہر سائل کی غلطی نہیں ؛لہذا سائل کے اس طرح کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوئی ،البتہ آئندہ طلاق کے معاملے میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
الفتاوى الهندية (1/ 420)
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق۔
الهداية (1/ 244)
وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق ” وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال۔
تبيين الحقائق (2/ 232)
إنما وقع الطلاق عقيب الشرط في تعليق طلاق امرأته؛ لأن المعلق بالشرط كالمنجز عند وجود الشرط۔۔