صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ ہم بھائیوں کے درمیان خریداری کا معاملہ ہوا جس کی تفصیل منسلکہ اسٹامپ پیپر میں درج ہے۔ اب اس میں سے ہم نے یہ معلوم کرنا ہے کہ جو اس معاہدے کی خلاف ورزی کرے اس کا کیا حکم ہے؟ اور فریقین میں سے کسی کا اس معاملہ سے پھر نے کی صورت میں جو جرمانہ (پانچ لاکھ روپےاور ایک دنبہ ) مقرر کیا گیا ہے وہ شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اگر درست نہیں تو اب معاہدہ ہوجانے کے بعد ہمارے لیے کیاحکم ہے؟ اور اس کا شرعی متبادل بھی بتادیں تاکہ فریقین معاہدے کے پابند رہیں؟ اور کیا اگر فریقین کا مقصد صرف ایک دوسرے کو پابند کرنا ہو، اور ہر ایک اس معاہدے کی پاسداری کےلیے تیار ہو، جرمانہ لینا مقصد نہ ہو تب بھی یہ شرط (جرمانہ والی ) ناجائز ہوگی؟
سوال کے ساتھ منسلک معاہدہ پر غور کرنے سے معلوم ہوا کہ شرعاً یہ فریقین کے درمیان خرید و فروخت کا معاملہ ہے اور مذکورہ خرید وفروخت کے معاملے میں فریقین پر جو معاہدہ کی خلاف ورزی کی صورت میں ہرجانہ کی شرط لگائی ہے شرعاً یہ درست نہیں اس شرط سےخریداری کا مذکورہ معاملہ فاسد ہو گیا؛لہذا فریقین کو چاہیے کہ اس معاملہ کو ختم کر کے نئے سرے سے معاملہ کریں اور اس میں معاہدہ کی خلاف ورزی کی صورت میں ہرجانہ کے بجائے التزام بالتصدق کی صورت اختیار کریں ،جس میں فریقین میں سے ہر ایک صراحت کے ساتھ اس بات پر عہد کرے کہ “اگر میں نے مذکورہ معاملہ میں لگائی گئی شرائط میں سے کسی شرط کی خلاف ورزی کی تو مجھ پر پانچ لاکھ روپے اور ایک دنبہ صدقہ کرنا لازم ہوگا “پھر اگر کوئی فریق خلاف ورزی کرتا ہے تو جرگہ اس سے طے شدہ پیسے اور دنبہ لے کر فقراء پر اور خیر کے کاموں میں صدقہ کرے ۔اور دوسرے فریق کے لیے ان پیسوں کا استعمال ہر گز جائز نہیں۔
رد المحتار (4/ 61) دار الفكر
وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.۔۔ وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ
المعايير الشرعية(المعيار الثالث،2/1)
(ح)یجوز أن ینص فی عقود المداینۃ ؛مثل المرابحۃ،علی التزام المدین عند المماطلۃبالتصدق بمبلغ أو نسبۃ بشرط أن یصرف ذلک فی وجوہ البر بالتنسیق مع ھیئۃ الرقابۃ الشرعیۃ للمؤسسۃ۔