بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

جیز کیش /ایزی پیسہ کے ذریعے رقم ٹرانسفر کرنے پر اجرت

سوال

مفتی صاحب ! میرا ایک جاز کیش ایزی پیسہ کا کا روبار ہے ۔ اس میں کسٹمر سے 1000 روپے بھیجنے کے 10 روپے اور نکالنے کے 20 روپے وصول کرتاہوں۔ اس میں چند اشکال ہیں حلال حرام سود اور غیر سود ہونے کے لحاظ سے، اس میں راہ نمائی فرمائیں۔
نمبر1-ایک شخص فون کرتاہے : پیسے بھیج دو، میں گھر سے آکر پیسے دے دیتاہوں، وہ دے بھی جاتاہے ، ان سے میں صرف بھیجنے کے پیسے وصول کرتاہوں۔
نمبر2-ایک شخص صبح کو پیسے کراتاہے اور کہتاہے شام کو دے دوں گا ۔
نمبر3- ایک شخص دکاندار سے کہتا ہے میرے طرف سے پیسے بھیج دو فلاں کو میں تھوڑا تھوڑا کرکے ایک ہفتہ تک کلئیر کر دوں گا۔
نمبر4-ایک شخص دکاندار سےپیسے اکاؤنٹ میں نکلواتاہے اور کہتاہے کہ 10 دن تک پیسے دوں گا۔
ان مختلف صورتوں میں ، میں اپنا سروس چارجز 1000 روپے پر 10 روپے وصول کرتاہوں اس سے زیادہ نہیں جبکہ مارکیٹ میں اس سے زیادہ بھی لوگ لیتے ہیں ۔ کیا مذکورہ صورتوں میں میرا لین دین درست ہے اگر نہیں تو درست صورت کیاہے ۔

جواب

جیز کیش /ایزی پیسہ کے ذریعے رقم ٹرانسفر کرنا یا کسٹمر کو رقم نکال کر دینا سروسز اور خدمات ہیں۔ اس پر اجرت (چارجز) وصول کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے ، لہذا سوال میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق آپ کا نقد چارجز وصول کرنا بھی جائز ہے اور تاخیر سے چارجز وصول کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ، تاخیر سے وصول کرنے سے یہ سودی معاملہ نہیں بنے گا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس