بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اورل سیکس کاحکم

سوال

آج کل ایک مسئلہ بہت رائج ہوا ہے جس کو اورل سیکس کہتے ہیں، اس کے بارے میں کل مجھ سے سوال کیا گیا انکا کہنا ہے کہ یہ حلال ہے، دلیل بھی پیش کی لیکن میں نے حرام کہا، لیکن حرام ہونے پر میرے پاس دلیل نہیں تھی براہ کرم شریعتِ مطہرہ کے مطابق رہنمائی فرما دیجیے ۔

جواب

اورل سیکس (بیوی کی شرم گاہ کو چاٹنا، یا بیوی کا مرد کے عضو تناسل کو منہ میں لینا) شریعت کی رو سے سخت ناپسندیدہ عمل ہے ،کیونکہ نجاست منہ میں جانے کا اندیشہ ہوتا ہے اور فطرت سلیمہ کے خلاف ایک حیوانی فعل ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہیے، نیز اگر نجاست کا منہ میں جانے کا غالب امکان ہو تو حرام اور ناجائز ہے۔
الفتاوى الهندية (5/ 372) دار الفكر
في النوازل إذا أدخل الرجل ذكره في فم امرأته قد قيل يكره وقد قيل بخلافه كذا في الذخيرة
الفقه الإسلامي وأدلته (4/ 2641) دار الفكر
وربما كان أسوأ من الدبر: وضع الذكر في فم المرأة ونحوه، مما جاءنا من شذوذ الغربيين، فيكون ذلك حراماً لثبوت ضرره وقبحه شرعاً وذوقاً
المحيط البرهاني (5/ 408) دار الكتب العلمية
إذا أدخل الرجل ذكره فم أمرأته فقد قيل: يكره؛ لأنه موضع قراءة القرآن، فلا يليق به إدخال الذكر فيه، وقد قيل بخلافه
احسن الفتاوی (8/44) مکتبہ اشاعت اسلام

بیوی کی شرم گاہ کو ہاتھ لگانا جائز ہے، بوسہ لینا جائز نہیں

فتاوی رحیمیہ (10/178)دارالاشاعت

عورت کی شرم گاہ کو چومنے اور زبان لگانے کی اجازت نہیں، سخت مکرہ اور گناہ ہے۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس