بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

مسجد کی سولر پلیٹوں کو پڑوسی کے حدود میں نصب کرنا جس سے اس کا نقصان وبے پردگی ہو

سوال

علماء کرام و فقہاء دین اس مسئلے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ
مسجد کے کچھ لوگوں نے مسجد کی چھت پر سولر سسٹم لگایا ہے۔ عمر کا گھر مسجد سے اس طرح متصل ہے کہ قبلہ کی طرف سے مسجد اور گھر کی دیواریں ملی ہوئی ہیں. عمر پوچھتا ہے کہ
نمبر1. اس کی 10 پلیٹوں کا 2 فٹ ، 3 فٹ حصہ فضا میں اس کے گھر کی حدود میں داخل ہورہا ہے۔
نمبر2. اس کے گھر کی پرائیویسی میں خلل پیدا ہوا، اور مستقبل میں بھی اس کا قوی امکان ہے۔
نمبر3. مستقبل میں جب اس کی صفائی ومرمت ہوگی تو گھر کے اندر اس کا پانی آئے گا۔ ۔ لگنے کے دوران بھی ویلڈنگ کی چنگاریوں سے نقصان ہوا،بےپردگی ہوئی۔
نمبر4. اہلِ مسجد کوگاہے ان باتوں کی طرف متوجہ بھی کیا گیا، مگر انہوں نے اس کی عدم رضامندی کو اہمیت نہیں دی۔۔
عمر کہتا ہے کہ اب مفتیان کرام بتائیں کہ میں کیا کروں؟ ایسی صورت حال میں مسئلہ کی نوعیت کیا ہے؟یا اگر کل کو مجھے اپنی حدبندی کرنی پڑی یا کوئی اور نقصان ، بارش کے پانی کا بہاؤ وغیرہ کی صورت حال پیدا ہوئی تو کیا مسجد انتظامیہ مسجد کے فنڈ پر اسے ہٹوانے کی ذمہ دار ہوگی؟؟ یا ابھی ہٹوائے؟ والسلام

جواب

کسی شخص کی ملکیت میں اس کی اجازت کے بغیر کسی قسم کا تصرف کرنا جائز نہیں بالخصوص جبکہ تصرف کرنے سے اس (مالک ) کا کسی قسم کا نقصان ہو یا چادر اور چار دیواری کا تقدس مجروح ہوتا ہو جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے ۔ صورتِ مسئولہ میں چونکہ مسجد انتظامیہ نے سولر پلیٹیں لگانے میں حدود سے تجاوز کیا اور بغیر اجازت سائل کی مملوکہ جگہ کو استعمال کیا حالانکہ ان کے اس فعل پر سائل نے تحفظات کا اظہار بھی کیا لہذا اب انتظامیہ کو چاہیے کہ اپنے خرچ سے ان پلیٹوں کو درست جگہ نصب کرے اور سائل کے گھر کی حدود کو مکمل خالی کرے اور اگر ایسا کرنا فوراً ممکن نہ ہو تو گھر والے کی رضامندی حاصل کریں اور آئندہ ان پلیٹوں کے ذریعے ہو نے والے نقصان کی تلافی اپنی طرف سے کریں، یا کوئی ایسا انتظام کریں کہ جس سے سائل کو درپیش مسائل اور تکلیف کا ازالہ ہو سکے۔
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (8/ 165) مكتبة القدسي
 وعن معاوية بن حيدة قال: قلت: يا رسول الله، ما حق جاري علي؟؟ قال: ” «إن مرض عدته، وإن مات شيعته، وإن استقرضك أقرضته، وإن أعوز سترته، وإن أصابه خير هنأته، وإن أصابته مصيبة عزيته، ولا ترفع بناءك فوق بنائه فتسد عليه الريح، ولا تؤذه بريح قدرك إلا أن تغرف له منها» “۔
مجلة الأحكام العدلية (ص: 27) نور محمد،كراتشي۔
لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه۔
وفی شرح المجلۃ تحت ھذہ المادۃ
لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنهاأوکالۃ منہاأولایۃ علیہ،وإن فعل کان ضامنا۔۔
بدائع الصنائع (6/ 263)
حكم الملك ولاية التصرف للمالك فيالمملوك باختياره ليس لأحد ولاية الجبر عليه إلا لضرورة ولا لأحد ولاية المنع عنه وإن كان يتضرر به إلا إذا تعلق به حق الغير فيمنع عن التصرف من غير رضا صاحب الحق وغير المالك لا يكون له التصرف في ملكه من غير إذنه ورضاه إلا لضرورة۔
قره عين الأخيار (8/ 177)دار الفکر
قال في الذخيرة: إذا كان الحائط بين رجلين وليس لواحد منهما فأراد أحدهما أن يضع عليه خشبا له ذلك، ولا يكون لصاحبه أن يمنعه عن ذلك ولكن يقال أنت ضع مثل ذلك إن شئت، هكذا حكى الامام النيسابوري. وكان بين هذا وبين ما إذا كان لهما عليه خشب فأراد أحدهما أن يزيد عليه خشبا على خشب صاحبه وأراد أن يتخذ سترا أو يفتح كوة أو بابا حيث لا يكون له ذلك إلا بإذن صاحبه وكان لصاحبه ولاية المنع۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس