بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

آن لائن گیم کے ذریعے پیسے کمانا

سوال

ایک گیم ہے آن لائن اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ ہم اس میں ایک ہزار روپے جمع کروائے گئے تو ہم گیم کھیلے گئے اور اس ایک ہزار سے ہم دو ہزار بھی کما سکتے ہیں اور زیادہ بھی اور ایک ہزار کا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔کیا یہ جائز ہے یا نہیں مکمل تفصیل چاہیے۔

جواب

سوال میں ذکر کردہ صورتِ حال میں مذکورہ گیم میں جمع کیے گئے پیسوں کے بارے میں یہ بھی خطرہ ہے کہ وہ ضائع ہوجائیں اور یہ بھی امکان ہے کہ وہ اضافی رقم کے ساتھ واپس آئیں ، لہذا یہ صورت شرعاً قمار اور جوا کی ہے اور بلا شبہ ناجائز اور گناہ ہے اس لیے اس گیم میں حصہ لینے سے مکمل گریز کریں۔
الدر المختار (6/ 402،403)سعيد
(ولا بأس بالمسابقة في الرمي والفرس)… (إن شرط المال) في المسابقة (من جانب واحد وحرم لو شرط) فيها (من الجانبين) لأنه يصير قمارا
رد المحتار (6/ 403) سعيد
(قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (4/ 2662) دار الفكر
 يحرم بالاتفاق كل لعب فيه قمار: وهو أن يغنم أحدهما، ويغرم الآخر، لأنه من الميسر أي القمار الذي أمر الله باجتنابه في قوله تعالى: {إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان، فاجتنبوه} [المائدة:90/ 5]. ومن تكرر منه ذلك سقطت عدالته، وردت شهادته
وإن أخرج أحدهما مالاً على أنه إن غلب، أخذ ماله، وإن غلبه صاحبه، أخذ المال، لم يصح العقد
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس