منسلکہ طلاق نامہ کی روسے مذکورہ خاتون پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے اور مرد وعورت دونوں ایک دوسرے پر حرام ہوچکے ہیں، ان دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں ۔ موجودہ صورتِ حال میں وہ نہ تو آپس میں رجوع کرسکتے ہیں اور نہ ہی نیا نکاح کرکے اکٹھے رہ سکتے ہیں ۔ عورت کو اپنے اولیا کی سرپرستی میں دوسری جگہ شادی کرنے کا حق حاصل ہے۔
قال اللہ تعالی [البقرة: 230]
{ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ}
صحيح البخاري (2/792)محمودیة
حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك
أحكام القرآن للجصاص (1/ 527) قدیمی
يدل على وقوع الثلاث معا مع كونه منهيا عنها۔۔۔ وفيها الدلالة عليه من وجه آخر وهوقوله تعالى فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره فحكم بتحريمها عليه بالثالثة بعد الاثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في أطهار فوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو غير مسنون ومباح أو محظور