ہمارا ایک مشترکہ مکان افغانستان میں ہے، اس کو ازسر نو تعمیر کرکے بھائیوں نے امریکن باشندوں نیٹو کو کرایہ پر دیدیا تھا ۔ اب ہم سب بھائی علیحدہ کاروبار کرتےہیں لیکن یہ مکان مشترکہ ہے میں ذاتی طور پر یہ نہیں چاہتاتھا کہ یہ مکان غیرمسلموں کے پاس کرایہ پر رہے مگر بھائی چاہتےتھے۔ اب اس کا کرایہ میرے حصے کے مطابق مجھے میرے بھائی دے رہے تھے۔کیا اس مجبوری میں یہ کرایہ شرعًا میرے لئے لینا درست تھا؟اور میں اس سے سالانہ زکوۃ کی ادائی گی کرسکتاہوں یانہیں؟
واضح رہے کہ ایسے غیر مسلم جو اسلام اور اہل اسلام کے نقصان کے درپے ہوں ان کو اپنا مکان کرایہ پر دیناممنوع ہے۔ البتہ اگر بھائیوں نے آپ کی رضامندی کے بغیرامریکن باشدوںنیٹو کو مکان کرایہ پر دیکر کرایہ حاصل کیا ہے آپ کےلئےاپنے حصے کے بقدر کرایہ وصول کرناحلال ہے اور اس میں سے سالانہ زکوۃ ادا کرنا شرعًا درست ہے۔
قال اللہ تعالی
{وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ } [المائدة: 2]
الجوهرة النيرة (2/ 262) المطبعة الخيرية
قوله (ولا ينبغي أن يباع السلاح من أهل الحرب) لأن فيه تقوية لهم على قتالنا لأن السلاح لا يصلح إلا للحرب وكذا الحديد؛ لأنه أصل السلاح وكذلك الخيل والبغال والحمير لأن فيه تقوية لهم علينا وكذا لا يباع منهم رقيق أهل الذمة؛ لأنه مما يستعان بهم على القتال ولو دخل الحربي دارنا فاشترى سلاحا فإنه يمنع من ذلك ولا يمكن من إدخاله إليهم قوله (ولا يفادون بالأسارى عند أبي حنيفة) يعني لا يفادى أسارى المسلمين بأسارى المشركين لأن فيه تقوية الكفار علينا ودفع شر حربه خير من استنفاذ أسيرنا
فقه البيوع(1/174)معارف القرآن
والحاصل أن تمكينهم من السکن فی عمارات المسلمین وشرائہم الدور والأراضي فیہا مقید بأن لا تفوت بہ مصلحۃ معتبرۃ للإسلام والمسلمین، ویمنع من ذلک حیث تفوت بہ تلک المصلحۃ، ولذلک أفتی العلماء المعاصرون بمنع بیع الأرضي من الیہود فی فلسطین. (کفایت المفتی(11/449)ط:ادارۃ الفاروق/ معارف القرآن (2/51)ط: معارف القرآن کراچی)
بدائع الصنائع(4/ 176) دار الكتب العلمية
وإسلامه ليس بشرط أصلا فتجوز الإجارة والاستئجار من المسلم، والذمي، والحربي المستأمن لأن هذا من عقود المعاوضات فيملكه المسلم، والكافر جميعا كالبياعات، غير أن الذمي إن استأجر دارا من مسلم في المصر فأراد أن يتخذها مصلى للعامة ويضرب فيها بالناقوس له ذلك، ولرب الدار وعامة المسلمين أن يمنعوه من ذلك على طريق الحسبة لما فيه من إحداث شعائر لهم وفيه تهاون بالمسلمين، واستخفاف بهم