بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

طلاق کی عدت گزرنے کے بعد رجوع کرنا اور خلع لینا

سوال

مجھے آج سے ایک سال پہلے میرے شوہر نے دو بار طلاق دی تھی سب کے سامنے لیکن پھر رجوع کر لیا تھا لیکن اب پھر مسئلہ بہت زیادہ بڑھ گیا تھا جس کی وجہ سے میں نے خلع لے لیا تھا لیکن پھر بچوں کا بہت زیادہ مسئلہ بن رہا تھا تو مجھے اور بچوں کو سنبھالنے والا کوئی نہیں تھا تو گھر والوں نے مجھ پر زور دیا کے واپس چلی جاؤ پھر جو ہمار ا وکیل تھا اس نے بھی کہا کے دوبارہ نکاح نہیں ہو گا میں اس کی باتوں پہ چلی آئی ہوں مجھے اس خاوند کے پاس ڈیڑھ مہینہ ہو چکا ہے تجدید نکاح کے بغیر ہمبستری بھی کر چکے ہیں۔ میری رہنمائی کر دیں کہ مجھے تجدید نکاح کی ضروت تھی یا حلالے کی یا جیسے میرے وکیل نے کہا تھا کہ رجوع کے علاوہ کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں میں بہت پریشان ہوں۔ مجھے جواب بہت جلدی چاہیے۔
تنقیح :شوہر نے کن الفاظ سے طلاق دی تھی اور رجوع عدت میں کیا تھا یا عدت گزرنے کے بعد؟
جواب تنقیح: طلاق صریح الفاظ کے ساتھ دی تھی اور رجوع عدت گزرنے کے بعد کیا تھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً دو طلاق کے بعد رجوع سے پہلے پہلے عدت گزار چکی تھیں توشرعاً آپ کا نکاح ختم ہو چکا تھا اور اس کے بعد رجوع درست نہیں ہوا ،نیز خلع لیتے وقت بھی چونکہ عقد نکاح باقی نہیں تھا اسی لیے اس خلع کا بھی شرعاً اعتبار نہیں ،لہذا آپ پر بدستور دو طلاقیں واقع ہیں۔اب اگر آپ دونوں ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو شرعی گواہوں کی موجودگی میں،مہرِ جدید کے ساتھ نیا نکاح کر کے اکھٹے رہ سکتے ہیں اور شوہر کو چاہیے کہ آئندہ طلاق کے معاملے میں بہت زیادہ احتیاط کرے ؛کیونکہ نئے نکاح کی صورت میں بھی اب اس کے پاس ایک ہی طلاق کا حق باقی ہے۔
واضح رہے عدت گزر جانے کے بعد اب تک جتنا عرصہ آپ دونوں ساتھ رہے اور ہمبستر ہوئے یہ فعل حرام تھا اس پر خوب توبہ استغفار کریں اور جب تک نیا نکاح نہیں کرتے ایک دوسرے سے جدا رہیں۔
رد المحتار (3/ 400) دار الفكر
 والرجعي لا يزيل الملك إلا بعد مضي العدة۔۔
الدر المختار (3/ 409)
(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب۔۔
رد المحتار(3/ 398)
والطلاق الرجعي لا يحرم الوطء رملي، ويؤيده قوله في الفتح – عند الكلام على قول الشافعي بحرمة الوطء -: إنه عندنا يحل لقيام ملك النكاح من كل وجه، وإنما يزول عند انقضاء العدة فيكون الحل قائما قبل انقضائها. اهـ۔
الدر المختار (6/ 368)
وفي الأشباه: الخلوة بالأجنبية حرام۔۔
تعليقاتِ فتاویٰ محمودیۃ(370)جامعہ فاروقیہ
ولو تزوجھا قبل اصابۃ الزوج الثانی ،کانت عندہ بما بقی من الطلاق۔۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس