بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

سور کی کھال کی بنی ہوئی جیکٹ کاحکم

سوال

سور کی کھال کی جیکٹ پہننا جا ئز ہے یا نہیں اور اس میں نماز ادا ہو جائے گی یا نہیں،راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

سور کی کھال کی بنی ہوئی جیکٹ کا پہننا جائز نہیں ہے ،اور اس میں نماز بھی ادا نہیں ہوگی۔
البحر الرائق  (1/179)الرشیدیۃ
(قوله: إلا جلد الخنزير والآدمي) يعني كل إهاب دبغ جاز استعماله شرعا إلا جلد الخنزير لنجاسة عينه وجلد الآدمي لكرامته۔
الدر المختار (1/393)الرشیدیۃ
(وكل إهاب) ومثله المثانة والكرش. قال القهستاني: فالاولى وما (دبغ) ولو بشمس (وهو يحتملها طهر) فيصلي به ويتوضأ منه (وما لا) يحتملها (فلا)وعليه (فلا يطهر جلد حية) صغيرة. ذكره الزيلعي، أما قميصها فطاهر (وفأرة) كما أنه لا يطهر بذكاة لتقيدهما بما يحتمله (خلا) جلد (خنزير) فلا يطهر، وقدم لان المقام للاهانة۔
الفتاوى الهندية (1/28)العلمیۃ
کل إهاب دبغ دباغة حقيقية بالأدوية أو حكمية بالتتريب والتشميس والإلقاء في الريح فقد طهر وجازت الصلاة فيه والوضوء منه إلا جلد الآدمي والخنزير. هكذا في الزاهدي۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس