مجھے دو مسائل کا حل پوچھنا تھا
نمبر1- ہمیں دفتر سے گورنمنٹ دفاتر کے چکر لگانے کا خرچ ملتا ہے مثلاً ایک چکر کا 250 روپے. تو اگر ایک کام کیلئے جانا ہو اور اسکا خرچ ہم کلائنٹ سے لے لیں اور اسی وقت دفتر کا کام بھی آجائے وہیں جانے کا. تو کیا دفتر سے اسکا خرچ لینا صحیح ہوگا یا ایک مرتبہ ہے لینا چاہیے؟ کلائنٹ بھی وہ دفتر ہی کا ہے.
نمبر2- آج کل جائے نماز پر نام لکھے آرہے ہیں… تو اگر نماز کے دوران اس پر نظر پڑے اور ہم اس کو بول کر یا بغیر بولے پڑھیں تو کیا حکم ہے اس بارے ہیں؟
اگر آپ کوآمدورفت کا خرچ اس طرح دیا جاتا ہے کہ جتنی رقم خرچ ہوئی اس کا بل پیش کر کے وصول کر لی جائے تو صورت مذکورہ میں کلائینٹ سے پیسے لینے کی وجہ سے دفتر سے پیسے لینا جائز نہیں اور اگر آمدورفت سہولت رسانی کے لیے دفتر کی جانب سے ایک متعین رقم طے ہے ،چاہے رقم خرچ ہو یا نہ ہو یا اس سے زائد رقم خرچ ہو،بہرحال دفتر کی جانب سے مقررہ رقم ہی ادا کی جاتی ہے نہ کم نہ زیادہ تو ایسی صورت میں ملازم کا حق شمار کرکے خرچ نہ ہونے کی صورت میں بھی وہ رقم لینا جائز ہے ۔
جائے نماز پر یا اس کے علاوہ کسی چیز پر لکھی ہوئی تحریر دیکھنے سے نماز مکروہ ہوجاتی ہے اور اگر تحریر کے الفاظ زبا ن سےاداکیے تو نماز فاسد ہو جائے گی۔
الفتاوی الھندیہ (4/469)الباب الرابع فی تصرف الاجیر فی الاجرۃ
فان کانت ہذہ التصرفات من الموجر بعد استیفاء المنفعۃ جازت بلا خلاف کذا فی المحیط ۔
الطحطاوی علی مراقی الفلاح (341)باب فیما لایفسد الصلاۃ
ولونظرالمصلی الی مکتوب وفھمہ سواء کان قرانااوغیرہ قصد الاستفھام او لا وساء الادب ولم تفسد لعدم النطق بالکلام ۔
الطحطاوی علی مراقی الفلاح(1/435)کوئٹہ
( ولو)نطق بھا(سھوا)یظن کونہ لیس فی الصلاۃ (او)نطق بھا (خطاء)کما لو اراد ان یقول :یایھاالناس فقال :یا یزید ،ولو جھل کونہ مفسدا۔