بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

میں تمہیں طلاق دیتاہوں” تین مرتبہ کہنا”

سوال

میرا نام فاطمہ اور میرے شوہر کا نام عمیر ہے ،ہماری شادی کو دس سال ہو گئے ہیں ہمارے تین بچے ہیں (بیٹا دس سال ،بیٹی 8سال ،بیٹا6 سال ) کےہیں شادی کے دس سالوں میں میرے خاوند گھر کی تمام مالی ذمہ داریوں کو بخوبی پورا کرتے رہے ،ہمارے مزاج میں عدم مطابقت کی وجہ سے اکثر ہمارے جھگڑے ہوتے رہتے تھے ،میرے شوہر کو شراب نوشی (پان ،سیگرٹ )کی عادت ہے ،7جولائ/2024ء کو میرے شوہر شدید غصے کی حالت میں تھے ،ہم دونوں کا ایک دن پہلے شدید جھگڑا ہوا تھا پھر وہ غصہ اور جھگڑا اگلے دن بھی رہا، 7جولائ کو رات 10 بجے میرے شوہر شدید نشے اور غصے کی حالت میں میرے کمرے میں داخل ہوئے، کچھ دیر لڑائی کے بعد جس میں ان کے والد بھی موجود تھے میرے شوہر نے میرے بڑے بھائی کو فون کیا اس وقت وہ شدید غصے اور شراب کے نشے میں تھے بھائی سے کہا” فاطمہ میرے سامنے بیٹھی ہے میں اپنے ابو کو گواہ بنا کر طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتاہوں ،اسے آکر لے جاؤ” اس کے بعد انہوں نے میری بڑی بہن کو فون کیاا ور انہیں کہا کہ” میں اپنے ہوش وحواس میں فاطمہ کو طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتاہوں ،طلاق دیتا ہوں” جب انہوں نے میری بڑی بہن کو فون کیا تب ان کے ابو میرے کمرے میں موجود نہیں تھے ، جب انہوں نے پہلے بھائی کو فون کیا اور طلاق کا لفظ بولا تو ان کے ابو لاحول پڑتے ہوئے کمرے سے باہر چلے گئے۔ اب میرے شوہر کہتے ہیں کہ ان کو بس اتنا یاد ہے کہ انہوں نے جھگڑے کے دوران تین بار طلاق کے لفظ بولے ہیں، ان کو یہ بھی یاد نہیں کہ انہوں نے میرے بھائی کو فون کیا اور پھر میری بڑی بہن کو فون کر کے دوبارہ تین بار طلاق کے الفاظ کہے ۔ اب آپ اس مسئلے میں رہنمائی فرما دیں کہ آیا ہماری طلاق ہو گئی ہے یا نہیں؟ قران و حدیث کی روشنی میں فتوی جاری کردیں، شکریہ۔
نوٹ: کچھ دن قبل میری طبعت خراب ہوئی تو ہم قاری صاحب کےپاس گئےانہوں نےمیرااور میرے شوہر کاحساب لگایا تو بتایا کہ مجھےجادو کے اثرات ہیں اور میرے شوہر کے حساب میں شدیدغصہ آنا آیا تھا۔
:نوٹ
جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت کمرے میں بیڈ پر میں ، بچے اور ابو بیٹھے تھے اور سامنے زمین پر گدے پر میرے شوہر بیٹھے تھے ، انہوں نے ڈائریکٹ مجھے مخاطب کر کے نہیں کہا بلکہ میرے بڑے بھائی کو فون کر کے ان سے فون پر کہا کہ فاطمہ میرے سامنے بیٹھی ہے اور میں اپنے ابو کو گواہ بنا کر اسے طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ۔

جواب

صورت مسئولہ میں آپ پر تین طلاق واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،لہذا آپ دونوں ایک دوسرے پر حرام ہو چکے ہیں،موجودہ صورت حال میں نہ تو آپس میں رجوع کرسکتے ہیں اور نہ ہی نیا نکاح کر کے اکٹھے رہنا جائز ہے۔ عدت گزارنے کے بعد آپ دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہیں، البتہ اگر عدت گزار کر دوسرے شخص سے نکاح کریں اور وہ ہمبستری کرے پھر اس کی موت ہوجائے یا وہ طلاق دیدے تو آپ عدت گزار کر پہلے شخص سے نکاح کر سکتی ہیں۔
قال الله سبحانه وتعاليٰ:[ البقرة:٢٣٠]
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ۔
أحكام القرآن للجصاص (2/ 83)دار احیاء التراث
قوله تعالى فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره فحكم بتحريمها عليه بالثالثة بعد الاثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في اطھار فوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو غير مسنون ومباح أو محظور۔
صحيح البخاري (٢/٧٩٢)
 وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك»۔
الفتاوي الولو الجية(2/ 100) بيروت
ولا تحل المرأة  بعد ما وقع عليها ثلاث تطليقات حتي تنكح زوجا غيره ويدخل عليها۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس