بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

شوہر کا عدالت میں حاضر نہ ہونے پر عدالت کا فسخ نکاح کا فیصلہ کرنا

سوال

ایک شخص اپنی بیوی کو نہ رکھ رہاہے اور نہ ہی طلاق دے رہا ہے۔ چھوٹی چھوٹی بات پرکہتا ہے کہ یہاں سے چلی جاؤ ، 15،20 دن کے لئے چھوڑ آتاہے ، جب بیوی کال کرتی ہے آجائیں لینے کے لئے تو کہتاہے کہ وہی رہو، کبھی دو، تین ماہ کےلئے چھوڑ آتاہے، جب سے شادی ہوئی ہے صرف ایک بار خرچہ دیاہے، ہر لحاظ سے تنگ کرکے رکھاہوا ہے ، اس کی والدہ بہت تنگ کرتی ہے۔
ایک بار لڑکی پر ہاتھ بھی اٹھا یا ہے، کمرے اور گھر سے بھی نکال دیاہے اور موبائل بھی لیا، گھروالوں سے بات تک نہیں کرنے دیتااور بیوی سے کہتا ہے آپ کی ساری ذمہ داریاں آپ کے والد اور بھائی پر ہے وہی آپ کو لیکر جائیں ،جہاں جاناآنا ہے ان کی ذمہ داری ہے ، کچھ لینا ہو تب بھی یہی کہتاہے۔لڑکی کے گھر سے فون آئے تو کال نہیں اٹھاتا، ان سب مظالم کے بعد لڑکی والے خلع کی طرف گئے۔ عدالت نے اس کو بلایا ،لیکن وہ نہیں گیا ،یونین کونسل والے کال کرتے رہے لیکن اس شخص نے کال نہیں اٹھائی۔ پھر لڑکی کی والدہ اس کے گھر گئی ،اس کے والد سے بات کی،لیکن اس نے بھی کہا کہ میرا بیٹا سائن نہیں کرے گا،لڑکی کی والدہ نے لڑکے کو میسج کیا، سائن کردو ،اس نے جواب نہیں دیا ،لڑکے کے ماموں کو کہا کہ اس کو پیغام پہنچا دو ، اس لڑکے نے کہا میں سائن نہیں کروں گا،پھر لڑکی کی والدہ اس کے گھر گئی اس نےکہا میں سائن نہیں کروں گا،جو آپ نے کرنا ہے کرلے۔
اب مفتیان کرام ان تمام صورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے کیا فرماتے ہیں کہ کیا عدالت نے جو خلع جاری کیا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں ؟ اگر کوئی مرد سائن نہیں کرتا،ضد کرتاہے تو کیا لڑکی اسی طرح بیٹھی رہے گی؟ والسلام ملحوظہ: دعوی اور عدالت کے فیصلے کے کاغذات سوال کے ساتھ لف ہیں جس میں عورت نے نان ونفقہ کو بنیاد بنایا۔

جواب

قرآن وسنت کی رشنی میں خلع کے درست ہونے کےلئے میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے، دونوں میں سے کسی ایک فریق کی رضامندی کے بغیر خلع شرعًا درست نہیں ہوتا۔البتہ اگر کہیں ایسی صورت ہو کہ شوہر نہ بیوی کو نان ونفقہ دیتاہو اور نہ ہی طلاق یا خلع پر راضی ہو تو اس صورت میں عدالت دعوی کے صحیح ثابت ہونے پر فسخ نکاح کی ڈگری جاری کرسکتی ہے ۔
صور ت مسئولہ میں جب عورت نے عدالت میں شوہر کے نان ونفقہ نہ دینے کا دعوی دائر کیا اور شوہر عدالت کے طلب کئے جانےپر اطلاع کے باوجود عدالت میں حاضر نہیں ہوا جس پر عدالت نے فسخ نکاح کی ڈگری جاری کردی تو عدالت کا یہ فیصلہ شرعًا معتبر ہے اور ان دونوں کے درمیان نکاح ختم ہوگیا ہے۔ اب عورت عدت گزار کر دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے۔
القرآن المجید [البقرة: 229]
{فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُوْدُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا وَمَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ }
سنن الترمذي،أبوعيسى محمد بن عيسى الترمذي(م:279هـ) (3/ 19) بيروت
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته: البينة على المدعي، واليمين على المدعى عليه۔
بدائع الصنائع،العلامة علاءالدين الكاساني(م:587هـ)(3/145)العلمیة
وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول۔
المبسوط، شمس الأئمةمحمدبن أحمد السرخسي(م:483هـ)(6/ 173)
والخلع جائزعند السلطان وغیرہ لانہ عقد یعتمد التراضی ۔
(فتاوی عثمانی (3/451)معارف القرآن،اور حیلۃ الناجزۃ، حکم زوجہ متعنت فی النفقۃ:187،ط:دار الاشاعت
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس