ایک طلاق کے متعلق فتوی درکار رہے مہربانی فرماکر راہ نمائی کریں ۔تفصیل درج ذیل ہے: 25 جنوری 2020ء کو شادی ہوئی جس میں سے ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ میاں بیوی کے درمیان مسلسل لڑائی جھکڑا رہا جس کی وجہ سے بات طلاق تک آگئی، لڑکے نے مورخہ 14 جولائی 2023ء کو لڑکی کو طلاق اول کا نوٹس دے دیا جوکہ فریقین میں صلح ہونے پر رجوع ہوگیا۔
دوبارہ لڑکے نے طلاق دوئم کا نوٹس 17 اگست 2023ء کو تیار کیا لیکن طلاق دی نہیں اور نہ ہی طلاق دوئم کا کسی سے ذکر کیا لہذا میاں بیوی دونوں ساتھ رہے۔
مورخہ 4 اپریل 2024ء کو میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوا تو لڑکے نے 4 اپریل کو ہی تیسرا نوٹس تیار کیا لیکن طلاق نہیں دی، دونوں فریق کے گھر والے اکھٹے ہوئے لیکن راضی نامہ نہ ہو سکا لہذا لڑکے نے طلاق کے تینوں نوٹس مورخہ 14 مئی 2024ء کو بذریعہ ڈاک متعلقہ یونین کونسل کو بھیج دئیے اور لڑکی کے گھر وا لوں کو بھی دے دئیے ہیں۔
نوٹ: پہلا نوٹس 14 جولائی 2023ء کو ہوا جس کے بعد رجوع ہوگیا تھا ۔دوسرا اور تیسرا نوٹس 14 مئی 2024ء کو ایک ساتھ بذریعہ ڈاک بھیجے ہیں اور یونین کونسل سے طلاق سرٹیفیکیٹ جاری نہ ہوا ہے ابھی تک ۔ کیا ایسی صورت میں طلاق مؤثر ہوگئی ہے یا رجوع کی صورت باقی ہے؟
سوال میں ذکر کردہ صورتِ حال کے مطابق تین طلاق واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، لہذا اب میاں بیوی کا اکٹھے رہنا ہر گز جائز نہیں اور نہ ہی شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے،نیز عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ۔
واضح رہے کہ طلاق دینے کا اختیار شوہر کو ہے ،شوہر نے طلاق دے دی تو طلا ق واقع ہوجائے گی اور یونین کونسل کی جانب سے سرٹیفیکیٹ جاری نہ ہونا طلاق کے وقوع میں رکاوٹ نہیں سمجھی جائے گی ۔
كما قال الله
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (البقرة:230)
تفسير ابن كثير(1/ 610) دار طيبة للنشر والتوزيع
وذلك أن الرجل كان إذا طلق امرأته فهو أحق برجعتها، وإن طلقها ثلاثا، فنسخ ذلك فقال: {الطلاق مرتان} الآية۔
الفتاوى الهندية (1/ 473) دار الفكر
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية۔
رد المحتار (3/ 441)دار الفكر
(قوله: وشرطه كالطلاق) وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك۔