کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
شق نمبر 1: ایک باپ اپنی اولاد پر زکوۃ کے پیسے خرچ کر سکتا ہے؟
شق نمبر 2: باپ مدرسے میں زکوٰۃ کے پیسے جمع کرواتاہےاورمدرسہ بھی اس کے اپنے بیٹے کے نام پر ہے اخراجات کی ذمہ داری اس کے اپنے بیٹے پر ہے،آیا بیٹا اس زکوٰۃ کے پیسے سے مدرسہ کے دیگر اساتذہ وعملہ کی طرح اخراجات مثلا: مدرسہ کی طرف سے مقرر شدہ اپنی تنخواہ اور طے شدہ مراعات وغیرہ حاصل کرسکتاہے یانہیں؟شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
نمبر1-والدکااپنی اولادکوزکوۃدیناجائزنہیں،اگرکوئی شخص اپنی اولاد میں سےکسی کوزکوۃ دے گاتو زکوۃ ادا نہیں ہوگی ۔
نمبر2-بیٹے کے لیے جائز نہیں کہ اپنے والد سے مدرسہ کے لیے زکوۃ کی رقم وصول کر کے براہ ِراست اپنے اخراجات میں استعمال کرے ،البتہ اگر مدرسہ میں زکوۃ کی وصولی کا نظام ہو مثلاً: مدرسہ میں مستقلاً طلبہ مقیم ہوں جنہوں نے اپنی طرف سےمہتممِ مدرسہ یا اس کے نامزد کردہ شخص کو زکوۃ کی وصولی ا ورپھر مدرسہ کو عطیہ کرنے کا وکیل بنایا ہو اور یہ شخص اولاً طلبہ کے وکیل کی حیثیت سے زکوۃ وصول کرے اور پھرمدرسہ کے فنڈ میں اس رقم کو عطیہ کر دے تو اس نظام سے گزرکر جو زکوۃ جمع کی جائے گی وہ زکوۃ ادا ہو کر مدرسہ کا فنڈ بن جائے گی ،لہذا اب اس رقم کو طلبہ کی ضروریات ،مدرسین (مدرس خواہ زکوۃ دینے والے کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو ) کی تنخواہوں وغیرہ میں خرچ کرنا شرعاً درست ہوگا ۔
رد المحتار(2/ 346) دار الفكر
(قوله: وإلى من بينهما ولاد) أي بينه وبين المدفوع إليه؛ لأن منافع الأملاك بينهم متصلة فلا يتحقق التمليك على الكمال هداية والولاد بالكسر مصدر ولدت المرأة ولادة وولادا مغرب أي أصله وإن علا كأبويه وأجداده وجداته من قبلهما وفرعه وإن سفل بفتح الفاء من باب طلب والضم خطأ؛ لأنه من السفالة وهي الخساسة مغرب كأولاد الأولاد وشمل الولاد بالنكاح والسفاح فلا يدفع إلى ولده من الزنا ولا من نفاه كما سيأتي۔۔
االفتاوى الهندية (1/ 188) دار الفكر
ولا يدفع إلى أصله، وإن علا، وفرعه، وإن سفل كذا في الكافي۔
الفتاوى الهندية (1/ 190)۔
إذا دفع الزكاة إلى الفقير لا يتم الدفع ما لم يقبضها أو يقبضها للفقير من له ولاية عليه نحو الأب والوصي يقبضان للصبي والمجنون كذا في الخلاصة۔
المبسوط للسرخسي (2/ 202) دار المعرفة
ولا يحصل الإيتاء إلا بالتمليك فكل قربة خلت عن التمليك لا تجزي عن الزكاة۔۔