مسئلہ یہ ہے کے ایک شخص فوت ہوا اس کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں ۔ اس وقت(۲۰۰۳ ) میں بہنوں نے بھائیوں سے کہا ہے ہم وراثت نہیں لیتی، لکھ کر دیا ہے معاف کرتی ہیں ۔ اب ایک ہمشیرہ کہتی ہے مجھے میرا حصہ دو ۔ آیا اس کو اب حصہ مل سکتا ہے اگر مل سکتا ہے تو اس وقت کے حساب سے ملے گا یا موجودہ وقت کے حساب سے مذکورہ مسئلہ میں فوت ہونے والا مقروض تھا اس کی وراثت میں کل جگہ بھی اسی وقت( ۲۰۰۳) میں فروخت کی پانچ لاکھ کی، دو لاکھ پچاس ہزار قرضہ اداء کیا ہے، اب وراثت پورے مال میں ہو گی یا جو بقایا ہے اس میں؟
صورت مذکورہ میں اگرمرحوم کی بیٹیوں نے اپنا وراثتی حق مکان فروخت ہونے سے پہلے معاف کیا تو ان میں سے کسی بھی بیٹی کا اپنے بھائی سے نجی طور پر وراثت کا مطالبہ کرنا جائز ہے اور بھائیوں پر لازم ہے کہ اس کا حق ادا کریں اور اگرمکان فروخت ہونے کے بعد زمین سے حاصل شدہ رقم میں سے اپنا حق معاف کیا تو یہ معافی درست ہوجائی گی؛ لہذا اب کسی بیٹی کو اپنے حق کا مطالبہ کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔
تبيين الحقائق (5/50) المطبعة الكبرى الأميرية
أحدهم عن عرض أو عقار بمال، أو عن ذهب بفضة، أو بالعكس) أي عن فضة بذهب (صح قل، أو كثر) يعني قل ما أعطوه أو كثر؛ لأنه يحمل على المبادلة؛ لأنه صلح عن عين ولا يمكن حمله على الإبراء إذ لا دين عليهم ولا يتصور الإبراء عن العين. [حاشية الشلبي] بشيء يأخذه؛ لأن الظاهر أن الذي يأخذه دون نصيبه. اهـ. (قوله ولا يتصور الإبراء) أي؛ لأن الإبراء عن الأعيان غير المضمونة لا يصح۔
الدر المختار(5/ 692)سعيد
(لا) تتم بالقبض (فيما يقسم ولو) وهبه (لشريكه) أو لأجنبي لعدم تصور القبض الكامل كما في عامة الكتب فكان هو المذهب وفي الصيرفية عن العتابي وقيل: يجوز لشريكه، وهو المختار۔