بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

کچی یا جلی ہوئی روٹی کا حکم

سوال

کیا فرماتےہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو روٹی پکنے کے دوران زیادہ لال ہوجائے یا تھوڑی سی جل جائے یاکچی رہ جائے تو اس روٹی کو کھانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

روٹی اگر معمولی حدتک کچی رہ جائے جسے کھانے سے نقصان کا اندیشہ نہ ہو تو اسے کھالینا چاہیئے ، اسی طرح اگر تھوڑا سا حصہ جلا ہوا ہےتو اس جلے ہوئے حصہ کو صاف کرکے بقیہ روٹی کھالینی چاہیئے، البتہ اگر زیادہ جلی ہوئی ہوکہ اسے صاف کرنا مشکل ہویا اتنی زیادہ کچی رہ جائے کہ اسے کھانا نقصان دہ ہوتو ایسی صورت میں اس کوکھانے سے احتراز کرنا چاہیئے، اور اسے ضائع کرنے کی بجائے پرندوں ، جانوروں کو کھلادیں اور اگر کچی روٹی کو دوبارہ پکا کر کھانے کی کوئی صورت ہو تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
فی صحيح مسلم (3/ 1607: دار احیاء التراث العربی)
رقم الحدیث: 5262/ 135…عن جابر، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إن الشيطان يحضر أحدكم عند كل شيء من شأنه، حتى يحضره عند طعامه، فإذا سقطت من أحدكم اللقمة، فليُمِط ما كان بها من أذى، ثم ليأكلها، ولا يدعها للشيطان،… »
قال شيخ الإسلام المفتي محمد تقي العثماني-حفظه الله- في تكملة فتح الملهم(4: 19)
قوله: «ما كان به من أذى»: الظاهر أنّ المراد بالأذى مثل التراب ونحوه مما هو طاهر يمكن إزالته، أمّا إذا اختلطت اللقمة بما هو نجس ، أو لايمكن إزالته وكان مضرا، فالظاهر أنّ الحكم لا يتعلق به، وحينئذ يُطعمه الحيوان، والله سبحانه أعلم
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس