بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

عورتوں کے لئے سونے چاندی کے علاوہ دیگر دھاتوں کی انگوٹھی پہننے کا حکم

سوال

اگر کوئی عورت سونے،چاندی کے علاوہ دوسری دھات کی انگوٹھی پہنے تو اس کو روکنے کا کس درجہ اہتمام کرنا چاہیے؟

جواب

جمہور علمائے احناف کے نزدیک مردوں کے لیے چاندی کے علاوہ اور عوتوں کے لیے سونا چاندی دونوں کے علاوہ دیگر دھاتوں کی انگوٹھی کا استعمال مکروہ تحریمی ہے ،البتہ متاخرین علمائے احناف میں حضرت گنگوہی قدس سرہ نے مکروہ تنزیہی لکھا ہے؛ اس لیے دیگر دھاتوں کی انگوٹھی سے اجتناب کرنا چاہیے۔ تاہم اگر کسی نے پہن لی ہو تو اس پر شدید نکیر بھی نہیں کرنی چاہیے ۔
بذل المجہود فی حل أبی داود (17/57)رشیدیة
قال البغوی النہی عن خاتم الحدید  لیس نہی تحریم۔
الہندیة  کتاب الکراہیۃ الباب العاشر (413)علمیة
التختم بالحدید والصفر والنحاس والرصاص مکروہ للرجال والنساء جمیعا۔
سنن النسائي، باب لبس خاتم صفر(8/ 175)مكتب المطبوعات الإسلامية
قال: أقبل رجل من البحرين إلى النبي صلى الله عليه وسلم فسلم، فلم يرد عليه، وكان في يده خاتم من ذهب، وجبة حرير، فألقاهما ثم سلم، فرد عليه السلام، ثم قال: يا رسول الله، أتيتك آنفا فأعرضت عني، فقال: «إنه كان في يدك جمرة من نار» قال: لقد جئت إذا بجمر كثير، قال: «إن ما جئت به ليس بأجزأ عنا من حجارة الحرة، ولكنه متاع الحياة الدنيا» قال: فماذا أتختم؟ قال: «حلقة من حديد أو ورق أو صفر»۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس