بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

لاعلمی کی وجہ سے طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق

سوال

میری شادی شاہ زیب سانول سے 10 مارچ 2017 میں انجام پائی تھی جس سے میری 4 سال کی بیٹی ہے۔ سب کچھ ٹھیک جارہا تھا کہ 2022 سے 2023 میں میرا شوہر نشے میں مبتلا ہوگیا۔ 19 جون 2023 کو شدید نشے کی حالت میں میرے گھر والوں سے جھگڑا ہوا اور میرے غیر موجودگی میں میرے بھائی اور بہنوں کے سامنے مجھے 2 دفعہ نشے کی حالت میں طلاق دے دی۔ بعد ازاں ان کو علاج کے لیے بھجوایا دیا گیا۔ اس مدت میں ہم میاں بیوی کا رجوع ہوگیا تھا جس کی وجہ سے میں واپس اپنے شوہر کے ساتھ گھر چلی گئی لیکن پھر کسی گھریلو جھگڑے کی وجہ سے میں واپس اپنے میکے آگئی۔ مجھے گھر والوں نے خلع کا بولا۔ میں نے اپنی اور گھر والوں کی رضا سے خلع کے لیے دائر کیا اور کچھ دن بعد وہ خلع اسکے اور اسکے گھر والوں کے سامنے رکھا۔ اس دوران میرے شوہر کو مسلسل کہا گیا کہ طلاق دے لیکن انہوں نے نہیں دی۔ پھر بہت زور دینے کے بعد میرے خاوند نے طلاق نامہ کو خلع کا حصہ سمجھتے ہوئے ان پر سائن کردیے۔ اس وقت بھی وہ نشے میں تھے۔ اپنا زیور اور رقم جو کہ 10لاکھ بنتی تھی وہ لی۔ رقم جو دی گئی وہ اس نے میرے گھر والوں کے دیے ہوئے گھر پر لگانے کا دعوی کیا تھا۔ بڑوں نے فیصلہ کیا کہ 10 لاکھ بنتے ہیں۔ اب میرے خاوند نے مجھے حلف دیا کہ میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ ایک طلاق نامہ ہے اور یہ کہ میں نے تیسری طلاق نہیں دی۔ وہ اس وقت نشے میں تھا اور زارو قطار رو رہا تھا۔ میرے گھر والوں کو تعلق دیوبند فرقے سے ہے اور ان کے مولوی حضرات کے مطابق طلاق ہوگئی ہے جبکہ میرے شوہر کا کہنا ہے کہ طلاق نہیں دی تم نے خلع لیا ہے۔ میری چھوٹی بیٹی ہے میں اسکی خاطر گھر جوڑنا چاہ رہی ہوں مہربانی فرما کر میرے مسئلے کا حل بتا دیں کہ اب رجوع کی کوئی گنجائش ہے کہ نہیں۔

جواب

سوال ميں ذكر كرده صورت حا ل كی روشنی ميں آپ نے دو طلاق دينے كے بعد عدت كے اندر رجوع كيا ہے اور اس كے بعد تحريری طلاق نامہ پر لاعلمی کی وجہ سے اس پر دستخط کیے ،اگر واقعتًا صورتِ حا ل یہی ہے اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی نہیں ہے تو یہ تیسری طلاق واقع نہیں ہوئی ؛لہذا آپ کا نکاح باقی ہے ۔
قال الله تعالى
{الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ}
تفسير ابن كثير (1/ 611) دار طيبة
وقوله: {فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان} أي: إذا طلقتها واحدة أو اثنتين، فأنت مخير فيها ما دامت عدتها باقية۔
تفسير مظهري (1/293)رشيدية
إن أرادوا إصلاحا  فلا جناح عليه  في الرجعة أجمعو علي جواز الرجعة من الطلاق الرجعة ۔
الفتاوى الهندية (1/ 379) دار الفكر
رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضي خان۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس