ایک مسئلہ میں شرعی راہنمائی درکار ہے ،میرے اور میر ی بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا اور محلہ داروں نے پولیس کو بلایا تو پولیس والے نے مجھ سے کہا کہ” اگر تم بیوی کو سنبھال نہیں سکتے تو طلاق دے دو”تومیں نے جواباً کہا کہ” میں نےدے دی”، اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کہنے سے طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟اور کیا رجوع کرنا جائز ہے ؟ اور ہم دونوں اب اکٹھے رہ سکتے ہیں یا نہیں؟ لہذا مہربانی فرما کر مذکورہ مسئلے کی شرعی رانمائی فرمائیں ۔
تفسير ابن كثير (1/ 611) دار طيبة
وقوله: {فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان} أي: إذا طلقتها واحدة أو اثنتين، فأنت مخير فيها ما دامت عدتها باقية
الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 128) دار الكتب العلمية
السؤال معاد في الجواب شرح الحموي على الأشباه والنظائر (ص: 128)العلمية، كوئتة قيل له ألست طلقت امرأتك. قال: بلى۔ طلقت
الدر المختار (3/ 249) دار الفكر
ولو قيل له: طلقت امرأتك فقال: نعم أو بلى بالهجاء طلقت بحر (واحدة رجعية
رد المحتار (3/ 249)
وكذا لو قيل له طلقتها فقال ن ع م أو ب ل ى بالهجاء وإن لم يتكلم به أطلقه في الخانية ولم يشترط النية، وشرطها في البدائع اهـ قلت: عدم التصريح بالاشتراط لا ينافي الاشتراط، على أن الذي في الخانية هو مسألة الجواب بالتهجي والسؤال بقول القائل طلقتها قرينة على إرادة جوابه فيقع بلا نية