بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بہنوں کو میراث سے محروم کرنا شرعا ناجائز ہے

سوال

مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ ہمارے علاقے/ معاشرے میں بہنوں کو میراث میں حصہ دینے کا رواج نہیں، تو بہنوں کو ان کے حصہ میراث سے محروم کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟کیا ان کو محروم کرنے والے بھائی عند اللہ گناہ گار ہیں؟ اور بعض اوقات بہنیں یہ کہہ دیتی ہیں بھائیوں کو کہ ہم نے اپنا حصہ معاف کردیا ، تو کیا اس طرح کہنے سے معافی ہوجائے گی؟ جبکہ ان کو پتہ ہوتاہے کہ ملنا تو ویسے بھی نہیں اس لیے معاف کردیتی ہیں ۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ بعض اوقات والد اپنی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرتے ہوئے کسی بیٹے کو دوگنا حصہ اس لیے دے دیتا ہے کہ والد اس کے ساتھ رہ رہا ہوتا ہےاسی طرح عرف کی وجہ سے بیٹی کو بالکل محروم کردیتا ہے تو کیا مذکورہ وجہ سے کسی بیٹے کو دوسرے بیٹوں کے مقابلے میں زیادہ حصہ دینا جائز ہے؟ اسی طرح کیا والد کا اپنی بیٹی کو بالکل محروم کردینا شرعاً دست ہے ؟

جواب

نمبر(1)بہنوں کو میراث سے محروم کرنا شرعاً ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے اور اللہ کے حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بھائیوں پر لازم ہے کہ اپنی بہنوں کو میراث میں ان کا اللہ کی جانب سے مقررہ حصہ دینے کا اہتمام کیا کریں،اور اس سلسلے میں کوتاہی ہرگز نہ کریں۔ حدیث میں کسی وارث کو اس کے حصہ سے محروم کرنے پر شدید وعید وارد ہوئی ہے۔اللہ کے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کے ارشاد گرامی سے معلوم ہوتا ہے کہ :جس نے اپنے وارث كو اس كی میراث سے محروم کیا اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کو اس كے جنت سے حصہ سے محروم کردیں گے(سننِ ابنِ ماجہ)،نیز بہنوں کا عرف کے دباؤ کی بنا پر شرما شرمی میں معاف کرنا بھی شرعاً معتبر نہیں اور اس طرح معاف کرنے سے ان کا حصہ معاف نہیں ہوتا۔
نمبر(2)زندگی میں جائیداد تقسیم کرتے ہوئے بلا وجہ تو کسی ایک بیٹے کو دوسرے سے زیادہ دینا جائز نہیں اسی طرح دوسری اولاد کو نقصان پہچانے کی غرض سے بھی کسی ایک بیٹے کو زیادہ نہیں دے سکتے ، لیکن کسی معتبر وجہ مثلاً اس کے زیادہ خدمت گزار ہونے ، یا زیادہ ضرورت مند ہونے کی وجہ سے دوسروں سے زیادہ دے سکتے ہیں ، البتہ بیٹی کو محروم کرنا ہر گز جائز نہیں ، اس پر شدید وعید وارد ہوئی ہے جیسا اوپر ذکر کیا گیا، بلکہ زندگی میں جائیداد تقسیم کرتے ہوئے بیٹی کو بیٹے کے برابر حصہ دینا بہتر ہے، اور بیٹے کو بیٹی کے مقابلے میں دوگنا دینا بھی جائز ہے، اور زندگی میں جس کو جو کچھ دینا چاہیں اپنے قبضہ واستعمال سے نکال کر اسے باقاعدہ مالک وقابض بناکرتقسیم کرکے دیں ، قابل تقسیم اشیا ایک سے زائد اولاد کو مشترکہ طورپر نہ دیں ، ہاں ناقابلِ تقسیم اشیا مثلاً فریج، واشنگ مشین وغیرہ مشترکہ طور پر بھی دے سکتے ہیں۔
مشكاة المصابيح (1/ 266: اسلامی کتب خانہ)
وعن أنس – رضي الله عنه – قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: «من قطع ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه۔
تكملة فتح الملهم(2/71: مكتبه دار العلوم كراچي)
فالذي يظهر لهذا العبد الضعيف: أن الوالد إن وهب لأحد أبنائه هبة أکثر من غيره اتفاقا أو بسبب علمه أو عمله أو بره بالوالدين من غير أن يقصد بذلک اضرار الاخرين، لا الجور عليهم، کان جائزا علي قول الجمهور وهو محمل آثار الشيخين وعبد الرحمن بن عوف، اما اذا قصد الوالد الاضرار او تفضيل احد الابناء علي غيره بقصد التفضيل من غيرداعية مجوزة لذلک فانه لايبيحه احد۔
الدر المختار (5/ 690)
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه، أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 123
روي عن سيدنا أبي بكر وسيدنا عمر وسيدنا عثمان وسيدنا علي وابن عباس – رضي الله عنهم – عنهم أنهم قالوا لا تجوز الهبة إلا مقبوضة محوزة ولم يرد عن غيرهم خلافه۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس