بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

چلی جا ، جو اچھا ہے اس سے نکاح کرلے” سے طلاق کا حکم”

سوال

بیوی :شوہر کی تذلیل کرتے ہوئے فلاں شخص بہت اچھاہے اور میرے والدین بھی بہت اچھے ہیں۔ میاں : چلی جا جو اچھا ہے اس سے نکاح کرلے اور جو اچھے ہیں انکے ساتھ رہ لے، مجھے ویسے بھی تیری ضرورت نہیں، توں کسی کام کی نہیں، جان چھوڑ، کچھ دن والدین کے پاس رہ کر دیکھ لے ۔اگر خوش ہوئی تو بتانا علیحدگی کر لیں گے میں تو تم سے بہت تنگ ہوں۔ علیحدگی اختیار کرنے پہ خوش ہوں تیرے رویے کی وجہ سے ۔
نوٹ: بیوی شوہر کی بہت نا فرمان ہے ہر وقت تذلیل کرتی ہے زبان کی بہت سخت ہے شوہر نے تنگ آکر طنزاً اور دھمکی کی نیت سے درج بالا الفاظ کہے شوہر وہمی ہے اور و ہم میں مبتلا ہے کہ طلاق تو نہیں ہوگئی کیا طلاق ہوگئی یا نہیں ؟

جواب

سوال میں ذکر کردہ الفاظ طلاق کے لیے صریح نہیں ہیں لہذا اگر ان الفاظ سے طلاق کی نیت نہیں کی تھی جیساکہ سوال سے ظاہرہورہاہے کہ شوہر نے طنزاً اور دھمکی کی نیت سے درج بالا الفاظ کہے طلاق دینے کی نیت نہیں تھی اگر واقعۃً ایساہی ہے تو مذکورہ صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔
المبسوط للسرخسي (6/ 143) دار المعرفة
ولو قال لامرأته: اذهبي فتزوجي، فإن كان نوى طلاقا فهو طلاق، وإن نوى ثلاثا فثلاث، وإن نوى واحدة فواحدة بائنة، وإن لم يكن له نية فليس بشيء؛ لأن كلامه محتمل فلا يتعين معنى الطلاق فيه إلا بالنية۔
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (3/ 231) دار الكتب العلمية
 فالأصل في جميع ألفاظ الكنايات أنه لا يقع الطلاق إلا بالنية۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 126)
عدم الشك من الزوج في الطلاق وهو شرط الحكم بوقوع الطلاق حتى لو شك فيه، لا يحكم بوقوعه حتى لا يجب عليه أن يعتزل امرأته؛ لأن النكاح كان ثابتا بيقين ووقع الشك في زواله بالطلاق فلا يحكم بزواله بالشك كحياة المفقود، أنها لما كانت ثابتة ووقع الشك في زوالها لا يحكم بزوالها بالشك حتى لا يورث ماله ولا يرث هو أيضا من أقاربه أصل في نفي اتباع الشك قوله تعالى {ولا تقف ما ليس لك به علم} [الإسراء: 36] ، وقوله – عليه الصلاة والسلام – لما سئل عن الرجل يخيل إليه أنه يجد الشيء في الصلاة – «لا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس