ایک آدمی کی شادی جس لڑکی کے ساتھ ہو رہی تھی، شادی سے پہلے اس نے کہا کہ اگر میں نے اس لڑکی کے ساتھ شادی کی تو اس کو طلاق ہے۔ پھر اس کے بعد دوسرے آدمی نے اس سے کہا کہ ایسی باتیں نہ کرو اس سے طلاق واقع ہوتی ہے یہ کوئی مذاق نہیں ہے تو پھر اس نے کہا کہ میں تو کوئی مذاق نہیں کر رہا ہوں طلاق ہے اس کو ، پھر تیسری بار کہا کہ تین طلاقیں ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ نکاح کرنے کے بعد یہ عورت مغلظہ ہو گئی یا نہیں ؟
صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کایہ کہناکہ”اگرمیں نےاس لڑکی سےشادی کی تواس کوطلاق ہے”اس سےبعدازنکاح ایک طلاق بائنہ واقع ہوجائےگی۔اوربعدکےکلام کےساتھ”اگرمیں نےاس سےشادی کی”وغیرہ جیسےتعلیق کےکلمات نہیں کہےتوان سےمزیدکوئی طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ یہ الفاظ نکاح سےپہلےاستعمال کئےگئےہیں اورنکاح سےپہلےیہ الفاظ بےمحل ہیں۔
فتح القدير للكمال ابن الهمام(4/102)رشیدیۃ
وفي المعينة يشترط أن يكون بصريح الشرط، فلو قال: هذه المرأة التي أتزوجها طالق فتزوجها لم تطلق لأنه عرفها بالإشارة فلا تؤثر فيها الصفة: أعني أتزوجها، بل الصفة فيها لغو فكأنه قال: هذه طالق، بخلاف قوله إن تزوجت هذه فإنه يصح، ولا بد من التصريح بالسبب۔۔۔۔في رجل قال: إن تزوجت فلانة فهي طالق أو يوم أتزوجها فهي طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق قالوا هو كما قال۔
الفتاوی التاتارخانیۃ:(5/111)فاروقیۃ
اذاقال”المراۃالتی اتزوجھا طالق۔وفی الذخیرۃ:اوقال:فھی طالق”فتزوج امراۃ تطلق۔۔۔۔ولوقال:ان تزوجت امراۃ بھذالاسم فھی طالق”فتزوجھا طلقت۔۔