بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

اگر میں نے اس لڑکی سے شادی کی تو اس کو طلاق “سے طلاق کا حکم”

سوال

ایک آدمی کی شادی جس لڑکی کے ساتھ ہو رہی تھی، شادی سے پہلے اس نے کہا کہ اگر میں نے اس لڑکی کے ساتھ شادی کی تو اس کو طلاق ہے۔ پھر اس کے بعد دوسرے آدمی نے اس سے کہا کہ ایسی باتیں نہ کرو اس سے طلاق واقع ہوتی ہے یہ کوئی مذاق نہیں ہے تو پھر اس نے کہا کہ میں تو کوئی مذاق نہیں کر رہا ہوں طلاق ہے اس کو ، پھر تیسری بار کہا کہ تین طلاقیں ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ نکاح کرنے کے بعد یہ عورت مغلظہ ہو گئی یا نہیں ؟
نوٹ: اس نے یہ الفاظ پشتو زبان میں کہے ہیں، سہولت کیلئے پشتو کے الفاظ ذکر کئےجاتے ہیں (پشتو کے الفاظ یہ ہے): کہ چیرےمودغہ جلکے وکڑہ بیا داستہ طلوق دائی ۔۔۔۔۔۔ پھر داستہ طلوق دائی۔۔۔۔ پھر وہ داستہ درے طلوقین دی”

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کایہ کہناکہ”اگرمیں نےاس لڑکی سےشادی کی تواس کوطلاق ہے”اس سےبعدازنکاح ایک طلاق بائنہ واقع ہوجائےگی۔اوربعدکےکلام کےساتھ”اگرمیں نےاس سےشادی کی”وغیرہ جیسےتعلیق کےکلمات نہیں کہےتوان سےمزیدکوئی طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ یہ الفاظ نکاح سےپہلےاستعمال کئےگئےہیں اورنکاح سےپہلےیہ الفاظ بےمحل ہیں۔
فتح القدير للكمال ابن الهمام(4/102)رشیدیۃ
 وفي المعينة يشترط أن يكون بصريح الشرط، فلو قال: هذه المرأة التي أتزوجها طالق فتزوجها لم تطلق لأنه عرفها بالإشارة فلا تؤثر فيها الصفة: أعني أتزوجها، بل الصفة فيها لغو فكأنه قال: هذه طالق، بخلاف قوله إن تزوجت هذه فإنه يصح، ولا بد من التصريح بالسبب۔۔۔۔في رجل قال: إن تزوجت فلانة فهي طالق أو يوم أتزوجها فهي طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق قالوا هو كما قال۔
الفتاوی التاتارخانیۃ:(5/111)فاروقیۃ
اذاقال”المراۃالتی اتزوجھا طالق۔وفی الذخیرۃ:اوقال:فھی طالق”فتزوج امراۃ تطلق۔۔۔۔ولوقال:ان تزوجت امراۃ بھذالاسم فھی طالق”فتزوجھا طلقت۔۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس