میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دینا چاہتا تھا لیکن اس نے بار بار طلاق کا مطالبہ کیا تو میں نے اسے ایک واٹس ایپ میسج کردیا( میں آپ کو طلاق دیتا ہوں تاکہ آپ اپنے پہلے شوہر سے بچوں کی خاطر شادی کرسکیں) لیکن وہ بولی تین دفعہ دو۔ لیکن میں کہا میں نہیں دینا چاہتالیکن وہ نہیں مانی ۔ پھر میں نے اسی میسج کو نہ چاہتے ہوئے دو دفعہ اور بھیج دیا۔ 4 سال ہوگئے ہیں اس نے شادی نہیں کی۔ کیا میں دوبارہ اس سے نکاح کر سکتا ہوں کیوں کہ شرط صرف یہ تھی کہ وہ پہلے شوہر سے شادی کرے گی جو کہ اس نے نہیں کی۔
قال تعالیٰ فی البقرہ 90:فان طلقھا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ
احکام القرآن للجصاص (1/527)قدیمی
یدل علی وقوع الثلاثۃ معا مع کونہ منہیا عنھا۔۔۔ وفیھا الدلالۃ من وجہ آخر وھو قولہ تعالیٰ فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ فحکم بتحریمھا علیہ بالثالثۃ بعد الاثنتین ولم یفرق بین ایقاعھما فی طھر واحد او فی اطھار فوجب الحکم بایقاع الجمیع علی ای وجہ اوقعہ من مسنون اوغیر مسنون ومباح او محظور
الفتاوی الھندیۃ (1/414) بیروت
ان کانت مستبینۃ لکنھا غیر مرسومۃ ان نوی الطلاق یقع والا فلا وان کانت مرسومۃ یقع الطلاق نوی او لم ینو۔