بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

میاں بیوی کا ایک دوسرے سے جدا رہنے کی وجہ سے نکاح پر اثر نہیں ہوتا

سوال

لڑکی کی 2019 میں شادی ہوئی،پہلی رات پتہ چلاکہ شوہر نامردہے،بعد میں اس کے موبائل سے پتہ چلاکہ وہ لڑکوں کی لت میں مبتلا ہے،اس میں کچھ کرنےکی اہلیت نہیں ہے تو اب تقریباً دوسال سے وہ لڑکی اس کے ساتھ نہیں رہ رہی،اس صورت میں کیانکاح خود بخودختم ہوگیا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ مردوعورت کانکاح بدستورقائم ہے،اس طرح جدارہنےسےنکاح ختم نہیں ہوتا۔
الموسوعة الفقهية الكويتية (41/ 321)
انتهاء النكاح
ينتهي النكاح وتنفصم عقدته بأمور: منها ما يكون فسخا لعقد النكاح يرفعه من أصله أو يمنع بقاءه واستمراره، ومنها ما يكون طلاقا أو في حكمه، ومن ذلك
أ – الموت۔۔ب – الطلاق۔۔۔۔ج – الخلع۔۔د – الإيلا۔۔هـ – اللعان۔۔۔۔۔۔۔
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 259) دار احياء التراث العربي – بيروت
الامتناع عن قربانها في أكثر المدة بلا مانع وبمثلة لا يثبت حكم الطلاق فيه۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس