بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دو بیٹے ، ایک بیٹی ، ایک بیوہ اور مرحوم کے والدین کے درمیان تقسیم

سوال

ايك شخص کا انتقال ہوگیا ہے اس کے ورثاء میں دو بیٹے ،ایک بیٹی ،ایک بیوہ اور مرحوم کے والدین شامل ہیں اور ان کی وراثت 90 لاکھ روپے ہے ان کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی ،برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کی ملکیت میں جو کچھ بھی تھا سب مرحوم کا ترکہ ہے۔اب اس ترکہ میں سے حقوق متقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کے بعد بقیہ مال کے کل 120 حصے کیے جائیں۔120 حصوں میں سے 15 حصے زوجہ کو،26 حصے فی بیٹے کو،13 حصے بیٹی کو،جبکہ 20،20 حصے والد اور والدہ کو دیے جائیں۔تقسمِ میراث کا نقشہ حسبِ ذیل ہے۔

مسئلہ24×5=120                                                 مضروب5

ام اب بنت ابن2 زوجہ
سدس سدس عصبہ عصبہ ثمن
4 4 13 3
20 20 65 15

                        فی بیٹا26        بیٹی13

اس نقشے کے حساب سے اب نوے لاکھ(9000000)میں سے گیارہ لاکھ پچیس ہزار(1125000)زوجہ کو،انیس لاکھ پچاس ہزار(1950000)فی بیٹے کو،نو لاکھ پچھتر ہزار(975000) بیٹی کو،پندرا لاکھ(1500000)مرحوم کے والد کو جبکہ پندرا لاکھ(1500000)مرحوم کی والدہ کو دیے جائیں۔

darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس