انسانوں کےوجودسےجواقوال وافعال اوراعمال سرزدہوتےہیں ان کااللہ تبارک وتعالٰی کوپہلےسےعلم ہے۔اللہ تعالٰی نےہمارےمتعلق اپنےاسی علم کولکھ دیا۔اسی کوتقدیرکہاجاتاہے۔اس کایہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالٰی انسانوں کواچھےیابرےکام پرمجبورکرچکا ہےیاکرتاہے بلکہ اللہ کی دی ہوئی طاقت کواپنےاختیارسےاستعمال کرتےہوئےانسان خوداچھےیابرےکام سرانجام دیتےہیں،جیساکہ دنیاوی امورمیں بھی ہمارایہی طرزعمل ہےکہ اللہ کی جانب سے(تقدیرمیں لکھے ہوئے)رزق کوحاصل کرنے کےلئےہم طاقت واختیارکواستعمال کرتے ہیں،اسی طرح قتل کابدلہ قاتل سےلیاجاتاہےیہ نہیں کہاجاتاکہ مقتول کامرناتولکھاہواتھا۔نیزانسان کی ارادی حرکت اور رعشہ کی حرکت میں،اسی طرح انسان اورجمادات میں فرق بالکل واضح ہےکہ اللہ کےعلم ازلی کےباوجود انسان کےاختیارات ختم نہیں ہوتےاوروہ اپنےاختیارسےہی نیک یابرےعمل کرتاہےاسی وجہ سےجزایاسزاکامستحق بھی ہوتاہے۔
تكملة فتح الملهم (5/ 250) دارالعلوم كراتشي
قوله تعالي:(انا كل شيئ خلقنه بقدر)قال القرطبي : ظاهره أن المرا د (بقدر) ماسبق به علمه وإرادته ۔
تكملة فتح الملهم (5/ 243) دارالعلوم كراتشي
أن التقدير السابق ليس إكراهاّ لعبد من العباد علي فعل شيئ أوتركه فلا ينافي الاختيارالحاصل للعبد۔
شرح العقائد (82) قديمي
وللعباد أفعال اختيارية يثابون بها إن كانت طاعة ويعاقبون إن كانت معصية لا كما زعمت الجبرية أنه لا فعل للعبد أصلا ۔