بندہ ایک جامعہ میں مصروف خدمت ہے مدرسہ کی طرف سے جو امور ذمہ داری میں شامل تھے ان میں سستی اور کوتاہی ہوتی رہی بندہ مدرسہ میں وقت پر آتا تھا اور کام نہیں کرتاتھا بلکہ کام چوری سے کام لیتاتھا اب کام چوری چھوڑ کر کام کرنے کا عہد کرتاہے بندہ اپنی اس کام چوری کی تلافی چاہتاہے اس کی کیا کوئی صورت بتلادیں اور کام چوری کی وعید بھی بتلادیں ۔ بندہ آپ کا بہت شکر گزار ہوگا؟
جوامور ایک ملازم کی ذمہ داریوں میں شامل ہوں ان کو امانت ودیانت کے ساتھ سر انجام دینا اس ملازم پر شرعاً لازم ہے اور اس میں کوتاہی کرنا خیانت اور گناہ ہے اور خیانت کے بارے میں احادیث مبارکہ میں سخت وعید آتی ہے کہ یہ منافق کی علامت ہے اسی طرح ایک اور حدیث میں فرمایا کہ لا ایمان لا امانۃ لہٗ لہٰذا اس پر توبہ استغفار کریں اور جتنا عرصہ کام میں کوتاہی کی اس کا اندازہ لگاکر منتظمہ کی منظوری کے ساتھ اضافی کام کرکے اس کی تلافی کریں۔
للبیہقی ط:المعارف (9/32) رشیدیة
لا ایمان لمن لا امانة له۔
الکفایۃ الملحقۃ بفتح القدیر (6/ 69) سعید
قوله(والاجیر الخاص الذی یستحق الاجر بتسلیم نفسه فی المدۃ وان لم یعمل) ای سلم نفسه ولم یعمل من التمکن اما اذا امتنع من العمل ومضت المدۃ اولم یتمکن من العمل ومضت المدۃ لم یستحق الاجر لانه لم یوجد تسلیم النفس۔
الدر المختار (6/ 69)سعید
(والثاني) وهوالأجير(الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل۔
رد المحتار (6/ 69) سعید
(قوله وإن لم يعمل) أي إذا تمكن من العمل، فلو سلم نفسه ولم يتمكن منه لعذر كمطر ونحوه لا أجر له كما في المعراج عن الذخيرة۔
البحر الرائق (8/12)رشیدیة
(والخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم) يعني الأجير الخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة عمل أو لم يعمل۔