بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بہن کا بھائیوں کے حق میں حصہ میراث سے زبانی دستبرداری کرنا

سوال

سلام مسنون کے بعد عرض ہے کہ ایک عورت کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ یہ عورت اپنی بالغ بیٹی کو کہتی ہے کہ اپنے حصے کی زمین اپنے بھائیوں کے نام کر دو تاکہ تمہارے بھائی تیرے ساتھ اچھے رہیں اور اچھا سلوک کریں۔ یہ بیٹی زمین اپنے بھائیوں کے نام کروا دیتی ہے۔ پھر کئی سال گزرنے کے بعد بڑے بھائی نے اس بہن کو اس کا حصہ دے دیا جبکہ چھوٹے بھائی نے نہیں دیا ۔ اب یہ بہن بھائی سے حصہ لے سکتی ہے یا نہیں۔ اور اگر بھائی حصہ نہ دے تو کیا عدالتی کاروائی کرنا درست ہےیا نہیں؟
مذکورہ حصہ بہن کے پاس والد کی وراثت کا ہے یہ حصہ مکمل پیمائش ونشاندہی کے ساتھ الگ کرکے بہن کو نہیں دیا گیا تھا۔عدالت میں جج نے پوچھا کہ کیا آپ اپنی خوشی سے اپنا حصہ بھائیوں کو دے رہی ہو تو بہن نے کہا کہ ہاں میں خوشی سے دے رہی ہوں۔

جواب

سوال ميں ذكر كرده تفصيل سے یہ بات ظاہرہورہی ہے كہ بہن نے اپنے حصہ وراثت سے بهائيوں كے حق ميں بغير كسی عوض كے دستبرداری كی ہے ،اگر واقعتاً ايسا ہی ہے تو اس صورت ميں شرعی حكم یہ ہے كہ یہ دستبرداری درست نہیں ہوئی،بہن كا حق زمين ميں موجودہےبهائی كو چاہیے كہ وه بہن كا حق اس كو ادا كردے البتہ اس دست برداری كے بعد اب بہن عدالت ميں بھائی كے خلا ف دعوی نہيں كر سكتی اس ليے كہ دعویٰ سے دست برداری درست ہو جاتی ہے۔
الفتاوى الهندية (4/ 417)بيروت
ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب۔
رد المحتار (5/ 633) ايچ۔ايم۔سعيد
وحاصله: أن الإبراء المتعلق بالأعيان إما أن يكون عن دعواها وهو صحيح بلا خلاف مطلقا۔
الأشباه والنظائر لابن نجيم (3/53)زکریا
لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس