بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

معقول عذر اور خدشات کی وجہ سے رشتہ ختم کرنا

سوال

منگنی ہو جانے کے بعد والدین کو لڑکی والوں کا خاندان بڑا ہونے کے وجہ سے اور خاندان کے لوگوں کا رہن سہن مختلف ہونے کی وجہ سے پسند نہ آئے تو منگنی توڑنا کیسا ہوگا ؟ والدین اصرار کر رہے کہ ہمیں ان کا خاندان پسند نہیں آرہا ،منگنی سے پہلے والدین نے بھی صحیح سے تحقیق نہیں کی ، منگنی کے بعد پتہ چلا کہ لڑکی کے والد نے دوشادیاں کر رکھی ہیں تو اس طرح لڑکی کا خاندان کافی بڑا ہوجاتا ہے ، جو کہ بعد میں لڑکے کے لیے مسائل کا سبب بنتا ہے اور دوسرا رہن سہن بھی ان کابہت مختلف ہے جب کہ لڑکی میں خود کوئی عیب نہیں ہے وہ نیک ہے بس خاندان کا مسئلہ ہے اور والدین نا پسند کر رہے ہوں اور منگنی توڑنے کا کہ رہے ہوں ، تو لڑکے کو کیا کرنا چاہیے؟

جواب

منگنی کی حیثیت شرعاً وعدہ کی ہے جس کو پورا کرنا دیانۃ ً ضروری ہے،البتہ اگر کوئی معقول عذر ہو تو مناسب طریقے سے منگنی توڑی جا سکتی ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں معقول عذر و خدشات کے پیش نظر اس رشتے کو ختم کیا جاسکتا ہے۔
مرقاة المفاتيح (7/ 3059)دارالفکر
( «عن النبي – صلى الله عليه وسلم – قال: إذا وعد الرجل أخاه ومن نيته أن يفي» ) : بفتح فكسر وأصله أن يوفي (له) أي: للرجل (فلم يف) أي: بعذر (ولم يجئ للميعاد) أي: لمانع (فلا إثم عليه)
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (4/ 2928)رشیدیۃ
 أما الوعد فلا يلزم الوفاء به قضاء، بل الوفاء به مندوب مطلوب ديانة ومن مكارم الأخلاق
الموسوعة الفقهية الكويتية (44/ 76)علوم اسلامیۃ
والنافون لوجوب الوفاء بالوعد من العلماء حملوا المحظور الذي نهى الله عنه ومقت فاعله في قوله تعالى: {ياأيها الذين آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون} {كبر مقتا عند الله أن تقولوا ما لا تفعلون} . على من وعد وفي ضميره ألا يفي بما وعد به، أو على الإنسان الذي يقول عن نفسه من الخير ما لا يفعله . وأما حديث آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان فقالوا بأن ذم الإخلاف إنما هو من حيث تضمنه الكذب المذموم إن عزم على الإخلاف حال الوعد، لا إن طرأ له . قال الإمام الغزالي: وهذا ينزل على من وعد وهو على عزم الخلف أو ترك الوفاء من غير عذر، فأما من عزم على الوفاء فعن له عذر منعه من الوفاء، لم يكن منافقا، وإن جرى عليه ما هو صورة النفاققال الحنفية: الخلف في الوعد حرام إذا وعد وفي نيته أن لا يفي بما وعد، أما إذا وعد وفي نيته أن يفي بما وعد فلم يف، فلا إثم عليه
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس