بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

بیوہ ، دو بیٹے ، تین بیٹیوں کے درمیان تقسیم اور بیوہ، ۳ بیٹے اور ایک بیٹی کے درمیان تقسیم

سوال

ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوا۔ اس وقت میراث کا کسی نے مطالبہ وغیرہ نہیں کیا اب مطالبہ کررہے ہیں۔ والد صاحب کے انتقال کے وقت ان کی جائیداد میں چھ مرلے زمین بمع مکان تھی، اور اس مکان کی تعمیر میں دونوں نے کچھ حصہ ملایا تھا لیکن زیادہ پیسے والد صاحب ہی نے لگائے تھے، اب موجودہ دور میں اس مکان کی مالیت تین لاکھ روپے ہے۔ ان کے ورثاء میں تین بیٹیاں دو بیٹے اور ایک بیوہ ہے۔ ان کی وراثت تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ ان کے چھوٹے بیٹے کا انتقال ہوگیا۔ ان کی ایک بیوہ ، تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ برائی مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں مذکورہ مكان سمیت جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان چھوڑا ہے وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے اس ميں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں ، اگر وہ اخراجات کسی نے اپنی طرف سے بطور ِ احسان ادا کئے ہوں تو اب وه کل ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے ،اس کے بعد دیکھیں اگر مرحوم پر کسی کا واجب الأداء قرضہ ہو تو بقیہ ترکہ سے اسے ادا کیا جائے ،اس کے بعد دیکھیں اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی ایک تہائی كی حدتک اس پر عمل کیا جائے، ا س کے بعدجومال بچےاس کے کل آٹھ (۸) حصے کرکےمرحوم کے ہرزنده بیٹے کو (2)حصے ،ہربیٹی کوایک(1)حصہ، مرحوم کی بیوہ کوایک(1) حصہ دیا جائے۔تقسیمِ میراث کانقشہ حسبِ ذیل ہے

مسئلہ        8

تیں بیٹیاں دو بیٹے بیوہ
3 4 1

پھر چھوٹے بیٹے کے  انتقال پر متقدمہ علی المیراث کی ادائیگی کے  بعد بیٹے کو والد کی طرف سے ملنے والے حصے اور اس کے اپنے مملوکہ  مال کے آٹھ حصے کیے جائیں ایک حصہ بیٹے کا   ایک حصہ بیوی کا  اور تین بیٹوں کو  دو دو حصے دیئے جائیں ۔

        مسئلہ    8

بیٹی ۱ بیٹے 3 بیوہ
1 6 1

                واضح رہے اگر مکان کی تعمیر کے وقت دونوں بیٹوں نے اپنے والد سے یہ طے تھا  کہ یہ رقم بطور قرض ہے تو والد کی وفات کے بعد اولاد مکان کی تعمیر پر  خرچ کردہ رقم واپس لے سکتی ہے  اور اگر اس طرح کا معاملہ نہیں کیا تو یہ رقم  وراثت میں شامل ہو گی۔

 

جامع الفصولين (2/ 159)اسلامی کتب خانہ کراتشی
عمر دار امرأته فمات وتركها وابنا فلو عمرها بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها فتغرم حصة الابن ولو عمرها لنفسه بلا إذنها فالعمارة ميراث عنه وتغرم قيمة نصيبه من العمارة وتصير كلها لها ولو عمرها لها بلا إذنها قال النسفي العمارة كلها لها ولا شيء عليها من النفقة فإنه متبرع۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس