ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوا۔ اس وقت میراث کا کسی نے مطالبہ وغیرہ نہیں کیا اب مطالبہ کررہے ہیں۔ والد صاحب کے انتقال کے وقت ان کی جائیداد میں چھ مرلے زمین بمع مکان تھی، اور اس مکان کی تعمیر میں دونوں نے کچھ حصہ ملایا تھا لیکن زیادہ پیسے والد صاحب ہی نے لگائے تھے، اب موجودہ دور میں اس مکان کی مالیت تین لاکھ روپے ہے۔ ان کے ورثاء میں تین بیٹیاں دو بیٹے اور ایک بیوہ ہے۔ ان کی وراثت تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ ان کے چھوٹے بیٹے کا انتقال ہوگیا۔ ان کی ایک بیوہ ، تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ برائی مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں مذکورہ مكان سمیت جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان چھوڑا ہے وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے اس ميں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں ، اگر وہ اخراجات کسی نے اپنی طرف سے بطور ِ احسان ادا کئے ہوں تو اب وه کل ترکہ سے نہیں نکالے جائیں گے ،اس کے بعد دیکھیں اگر مرحوم پر کسی کا واجب الأداء قرضہ ہو تو بقیہ ترکہ سے اسے ادا کیا جائے ،اس کے بعد دیکھیں اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی ایک تہائی كی حدتک اس پر عمل کیا جائے، ا س کے بعدجومال بچےاس کے کل آٹھ (۸) حصے کرکےمرحوم کے ہرزنده بیٹے کو (2)حصے ،ہربیٹی کوایک(1)حصہ، مرحوم کی بیوہ کوایک(1) حصہ دیا جائے۔تقسیمِ میراث کانقشہ حسبِ ذیل ہے