ايك بندہ امریکہ میں اور خاتون پاکستان میں ہے جن کے درمیان اس طرح نکاح منعقدہوا کہ شوہرکے وکیل نے مجلسِ نکاح میں شوہر کی طرف سے قبول کیا ۔اس نکاح کے بعد بیس سال گزر چکے ہیں لیکن شوہر پاکستان نہیں آیا ، تاحال امریکہ ہی میں قیام پذیر ہے، دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کو دیکھا بھی نہیں اور اس دوران اس خاتون سے ایک بچہ بھی پیدا ہوگیا۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ مذکورہ صورتِ حال میں اس بچے کانسب اس شوہر سے ثابت ہوگا یا نہیں ؟ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
صحيح مسلم (2/ 1081):
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال «الولد للفراش، وللعاهر الحجر»۔
فى تکملۃ فتح الملہم : (1/65، 66 )مکتبۃ دارالعلوم کراتشی
مسألة ثبوت النسب بالفراش القوي مع تعذر الوطء: ثم استدل أبو حنيفة رحمه الله بحديث الباب علي أن قيام الفراش كاف في إثبات نسب الولد من صاحب الفراش، ولا يشترط له التمكن من الوطأ في العادة ، وقال مالك والشافعي وجمهور العلماء : يشترط التمكن من الوطء بعد ثبوت الفراش، فلو نكح مشرقية ولم يفارق واحد منهما وطنه، ثم أتت بولدلستة أشهر أو أكثر ،لم يلحقه عند الجمهور، ولحقه عند أبي حنيفة رحمه الله ، كما في شرح النووي ۔