چند دن پہلے میں نے اپنی بیوی کو غصہ کی حالت میں فون پر دو تین مرتبہ یہ الفاظ کہہ دیئے ہیں کہ میں تینوں فارغ کیتا(میں نے تجھے فارغ کیا) اس میں نہ کوئی طلاق کا لفظ بولا اور نہ ہی فیصلہ کا لفظ بولا ہے اور نہ ہی میری نیت طلاق دینے کی تھی۔ آیا مذکورہ الفاظ سے طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں، نیز ان الفاظ سے کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ہیں؟ اگر طلاق واقع ہو گئی ہے تو دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں، اگر ہو سکتا ہے تو تجدید نکاح کی کیا صورت ہو گی جبکہ میں کام کے سلسلے میں دو سال کے لیے بیرون ملک دبئی میں آیا ہوں ۔ لہذا مہر بانی فرما کر بندہ کی راہ نمائی فرمائیں تا کہ بندہ کی پریشانی ختم ہو جائے ۔
صورتِ مسئولہ میں آپ کا اپنی بیوی سے غصے کی حالت میں یہ کہنا کہ ” میں نے تجھے فارغ کیا” سے ایک طلاق بائن واقع ہو گئی ،جس کاحکم یہ ہے کہ آپ کا اور آپ کی بیوی کا نکاح ختم ہوگیا ،لہذا اب اگر رجوع کرنا چاہتے ہیں تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کر لیں اور بیرون ملک سے نکاح کی صورت یہ ہے کہ آپ کسی کو وکیل بنا لیں جو آپ کی طرف سے مجلسِ نکاح میں ایجاب و قبول کر لے تو اس طرح نکاح منعقد ہو جائے گا، اور آئندہ شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ۔
الدر المختار (3/ 296)دار الفكر
الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب۔
الفتاوى الهندية (1/ 375) دار الفكر
(وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية. وألحق أبو يوسف – رحمه الله تعالى – بخلية وبرية وبتة وبائن وحرام۔
الفتاوى الهندية (1/ 472)
إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة۔
الفتاوى الهندية (1/ 294)
يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود۔