بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

انشورنس کمپنی کیلئے سوفٹ ویئر بنانا

سوال

میری ایک جگہ جاب ہوئی ہے جو کہ انشورنس کمپنی کے لیے سوفٹ ویئر بناتی ہے میرا کام سوفٹ ویئر بنانا ہے ۔کیا ایسی کمپنی کے لیے کام کرنا جائز ہے؟

جواب

مروجہ انشورنس سود،غرراور دھوکے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے اور ناجائز و گناہ کے کام میں تعاون کرنا بھی گناہ ہے ۔لہذا صورت مسئولہ میں انشورنس کمپنی کے لیے سوفٹ ویئر بنانا اس کے ساتھ گناہ میں تعاون کرنے کی وجہ سے گناہ ہوگا البتہ سوفٹ ویئر بنانے کی آمدن کراہت کے ساتھ جائز ہوگی۔
قال اللہ تعالی
{وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ } [المائدة: 2]
تفسير ابن كثير(3/ 10)دار الکتب العلمیۃ
وقوله تعالى: “وَتَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوى وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ” يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات وهو البر، وترك المنكرات وهو التقوى وينهاهم عن التناصر على الباطل والتعاون على المآثم والمحارم۔
فقہ البیوع(1/187)معارف القرآن
ذلک الحکم فی برمجۃ الحاسب الآلی(الکمبیوتر)لبنک ربوی،فإن قصد بذلک الإعانۃ،أو کان البرنامج مشتملا علی مالایصلح إلا فی اعمال الربویۃ،أوالاعمال المحرمۃ الأخری فان العقد حرام وباطل،أماإذا لم یقصد الإعانۃ،ولیس فی البرنامج ما یتمحض للأعمال المحرمۃ،صح العقد وکرہ تنزیھا۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس