بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

دو دفعہ طلاق کے یہ الفاظ “میں تنوں طلاق دتی” کا حکم

سوال

میں نے جھگڑے کے دوران غصے کی حالت میں اپنی بیوی کے متعلق طلاق کے یہ الفاظ بولے تھے کہ: “میں تنوں طلاق دتی”(ترجمہ: میں نے تجھے طلاق دی).
مذکورہ بالا طلاق کے الفاظ میں نے مسلسل بولے، دو دفعہ بولنا تو مجھے یاد ہے ،لیکن کیا یہ الفاظ میں نے تیسری دفعہ بھی بولے یا نہیں اس میں مجھے شک ہے ،بہت زیادہ سوچنےکےبعدبھی مجھے یاد نہیں آ رہا کہ میں نے تیسری دفعہ یہ الفاظ بولے تھے یا نہیں ،میراغالب گمان یہ ہو رہاہےکہ میں نےدوطلاقیں دیں ،وہاں مجلس میں موجود لوگوں میں سے اکثر کا یہ کہنا ہے کہ تم نے یہ الفاظ دو دفعہ بولے تھے تیسری بار نہیں بولے،جبکہ وہاں موجود بعض افراد کا یہ کہنا ہے کہ تم نے یہ الفاظ تیسری بار بھی بولے تھے۔ اب اس شک کی صورت میں میرے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟نیز طلاق کے یہ الفاظ بولنے کے تقریبا پندرہ دن بعد میں نے بیوی سے رجوع یعنی صحبت بھی کی۔
براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور اب نکاح و رجوع کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

جب آپ کا ظن غالب دوطلاقیں دینےکاہےتوصورت مسئولہ میں دوطلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔بعدازاں دوران عدت چونکہ آپ نےرجوع کیااس لئےآپ میاں بیوی کانکاح اب بدستورقائم ہے،البتہ آئندہ کےلئےآپ کےپاس صرف ایک طلاق دینےکاحق باقی ہے۔
رد المحتار(3/ 283)
(قوله بنى على الأقل) أي كما ذكره الإسبيجابي، إلا أن يستيقن بالأكثر أو يكون أكبر ظنه. وعن الإمام الثاني إذا كان لا يدري أثلاث أم أقل يتحرى؛ وإن استويا عمل بأشد ذلك عليه؛ أشباه عن البزازية قال ط: وعلى قول الثاني اقتصر قاضي خان؛ ولعله لأنه يعمل بالاحتياط خصوصا في باب الفروج. اهـ. قلت: ويمكن حمل الأول على القضاء والثاني على الديانة؛ ويؤيده مسألة المتون في باب التعليق. لو قالإن ولدت ذكرا فأنت طالق واحدة وإن ولدت أنثى فأنت طالق ثنتين فولدتهما ولم يدر الأول تطلق واحدة قضاء وثنتين تنزها أي ديانة. هذا وفي الأشباه أيضا: وإن قال عزمت على أنه ثلاث يتركها وإن أخبره عدول حضروا ذلك المجلس بأنها واحدة وصدقهم أخذ بقولهم۔
المحيط البرهانی(5/35)داراحیاءتراث العربی
وفي «نوادر ابن سماعة» عن محمّد رحمهما الله: إذا شكَّ أنه طلّق واحدة أو ثلاثاً، فهي واحدة حتّى يستيقن، أو يكون أكثر ظنّه على خلافه. وإن قال الزوج عزمت على أنها ثلاث، أو هي عندي على أنّها ثلاث، أضع الأمر على أشدّه، (فأخبره غد وأحضروا) ذلك المجلس، وقالوا كانت واحدة قال إذا كانوا عدولاً صدقهم وأخذ بقولهم. وعن هشام رحمه الله قال: سألت أبا يوسف رحمه الله عن رجل حلف بطلاق امرأته، ولا يدري بثلاث حلف أو بواحدة، قال: يتحرّى الصواب فإن: استوى ظنّه عمل بأشد ذلك عليه۔
بدائع الصنائع(3/126)دارالکتب العلمیة بیروت
اعتبر اليقين وألغى الشك ثم شك الزوج لا يخلو: إما أن وقع في أصل التطليق أطلقها أم لا؟ وإما أن وقع في عدد الطلاق وقدره؛ أنه طلقها واحدة أو اثنتين أو ثلاثا، أو صفة الطلاق أنه طلقها رجعية أو بائنة فإن وقع في أصل الطلاق لا يحكم بوقوعه لما قلنا، وإن وقع في القدر يحكم بالأقل؛ لأنه متيقن به وفي الزيادة شك، وإن وقع في وصفه يحكم بالرجعية؛ لأنها أضعف الطلاقين فكانت متيقنا بها۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس