ہمارےبچےآن لائن قرآن مجیدکی تعلیم حاصل کررہےہیں،ہم قاری صاحب کوہرماہ کےشروع میں ہی فیس بھیج دیتےہیں،لیکن پوچھنایہ ہیکہ درمیان میں ہفتہ،اتوارکی چھٹی آتی ہے،اسی طرح عیدوغیرہ کی چھٹیاں ہوتی ہیں۔اور بعض دفعہ ہم سےناغہ ہوجاتاہےاوربعض دفعہ قاری صاحب سےچھٹی ہوجاتی ہے۔کیا ہماراان تمام چھٹیوں کی تنخواہ کی کٹوتی کرنایاقاری صاحب کا ان چھٹیوں کی فیس وصول کرنادرست ہے؟
صورت مسئولہ میں آپ کے بچوں کی طرف سےہونےوالاناغہ اور وہ ایام جن کا ناغہ کرنا عقدکرتےوقت ہی طےہوجیسے ہفتہ،اتواراورایام عیدوغیرہ ان کی کٹوتی کرنا جائزنہیں۔اس کےعلاوہ کی غیرحاضری پرکٹوتی سےمتعلق اگرکوئی معاملہ فریقین کےدرمیان طےہوتواس کےمطابق عمل کیاجائےلیکن اگرکوئی معاملہ طےنہیں کیاگیاتوعرفاًجتنی غیرحاضریوں کونظراندازکیاجاتاہے اس کی کٹوتی نہ کی جائے۔اس سےزیادہ پرکٹوتی کی جاسکتی ہے۔
:بدائع الصنائع (6/57)بیروت
وأما الأجير الخاص لا يستحق الأجرة بعمله بل بتسليم نفسه إليه في المدة۔
:رد المحتار(6/69)سعید
(قوله وإن لم يعمل) أي إذا تمكن من العمل، فلو سلم نفسه ولم يتمكن منه لعذر كمطر ونحوه لا أجر له كما في المعراج عن الذخيرة۔
:شرح الحموی(1/272)ادارة القرآن والعلوم الاسلامیة
قولہ:منھا: البطالة فی المدارس الخ فی الذخیرة:قال ابواللیث:من یاخذالاجرة من الطلبة فی یوم لادرس علیہ ارجوان یکون جائزاً،انتھی۔
:رد المحتار(4/372)سعید
قلت: هذا ظاهر فيما إذا قدر لكل يوم درس فيه مبلغا أما لو قال يعطى المدرس كل يوم كذا فينبغي أن يعطى ليوم البطالة المتعارفة بقرينة ما ذكره في مقابله من البناء على العرف، فحيث كانت البطالة معروفة في يوم الثلاثاء والجمعة وفي رمضان والعيدين يحل الأخذ، وكذا لو بطل في يوم غير معتاد لتحرير درس إلا إذا نص الواقف على تقييد الدفع باليوم الذي يدرس فيه كما قلنا۔