آج کل جیسے انٹرنیٹ پر بہت ساری ایپس جیسے ریڈار وغیرہ جس میں سب سے پہلے اکاؤنٹ بنانا پڑتا ہے اور اس کےبعد ان ایپس کے لنک پر جا کر یو ٹیوب اور فیس بک سے سکرین شاٹس لے کر اس کو ان ایپس پر روزانہ اپ لوڈ کیا جاتا ہے جس سے اس کو روزانہ کی بنیاد پر سکرین شاٹس بھیجنے پر پوائنٹس ملتے ہیں۔جس کے جتنے پوائنٹس ہوں اس کو اتنے ہی پیسے ماہانہ ملتے ہیں۔ اسی طرح مذکورہ ایپس میں دوسرے طریقے سے بھی کام کیا جاتا ہے جس میں سب سے پہلے ۷۰۰۰ ہزار انٹری فیس جمع کروانی پڑتی ہے اس کے بعد اس کو ایک ٹیم تیار کرنی پڑتی ہے جس قدر افراد اس ٹیم میں شامل کرے گا اس کے کمیشن میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ نیز مذکورہ ایپس میں غیر شرعی امور اور غیر محارم کی تصاویر نہیں ہوتی، اب مذکورہ صورت کے تناظر میں سوال یہ ہے کہ مندرجہ بالا ایپس میں اس طریقے سے کام کرنے کی گنجائش ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ ریڈار ایپ نیٹورک مارکیٹنگ کے طرز پر کام کرنے والی ایپ ہے اور اس نظام پر چلنی والی کمپنیوں /ایپس میں شرعی اعتبار سے مختلف مفاسد (جھوٹ ،غرر اور دھوکہ دہی وغیرہ)پائے جاتے ہیں، نیز مذکورہ کمپنی کے اصولوں کے مطابق ممبر کو ان ممبرا ن کی منبر سازی پر بھی کمیشن ملتا ہے جن کی ممبر سازی میں اس شخص کی اپنی کوئی محنت نہیں ہوتی بلکہ وہ اس کے نیچے کے ممبرز میں سےکسی کے بنائے ہوئے ممبرز ہوتے ہیں اور ان کمپنیوں /ایپس کا مقصد کاروبار نہیں ہوتا بلکہ ممبر سازی کے ذریعے پیسے کمانا ہے،لہذا اس طرح کی کمپنیوں میں کام کرنا اور کمیشن کے نام پر ناجائز فوائد حاصل کرنا جائز نہیں اور مذکورہ ایپ کے لنک کے ذریعے فیسبک،یوٹیوب وغیرہ کی ویڈیوز کو لائک کر کے سکرین شاٹ ایپ کو ارسال کیا جاتا ہے جس کا مقصد جعلی ویوز لوگوں کو دکھانا ہے جو جھوٹ اور دھوکہ دہی کے کام میں معاونت کی وجہ سے ناجائز ہے ،نیز جن ویڈیوز کو لائک او ر چینلز کو سبسکرائب کیا جاتا ہے ہماری معلومات کے مطابق عموماً غیر شرعی امور پر بھی مشتمل ہوتی ہیں ،لہذا اس طرح کی ایپس کو استعمال کرنے سے اجتناب ضروری ہے۔
:کما قال اللہ تعالیٰ
وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ (الْاٰية2)
:کما قال اللہ تعالیٰ
یٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُواْ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ. (المائدة: 90)
ردالمحتار،العلامة ابن عابدين الشامي(م:1252هـ) (6/ 403) دار الفكر
لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد لأن الزيادة والنقصان لا تمكن فيهما بل في أحدهما تمكن الزيادة، وفي الآخر الانتقاص فقط فلا تكون مقامرة لأنها مفاعلة منه زيلعي۔