ہماری ایک نان کی دکان ہے ہم کسی بندے سے ایک لاکھ روپے لیتے ہیں یا اس کو کہتے ہیں کہ ہمیں ایک لاکھ روپے کا سامان لےکردے دو جب ہم آپ کے مہینے بعد پیسے واپس کریں گے تو آپ کو ایک لاکھ پانچ ہزار دے دیں گے، جبکہ اس بندے کی طرف سے کوئی بات طے نہیں ہے کہ مجھے ایک لاکھ پر پانچ ہزار دینا۔ آیا ہمارے لیے ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
دوسری بات مہینے کے بعد ہم اس کو پانچ ہزار تو دے دیتے ہیں لیکن لاکھ روپیہ اس کو نہیں دیتے اس لاکھ روپیہ کا مزید سامان لے کر اس دکان میں شامل کرلیتے ہیں یا ہمارے پاس سامان موجود ہوتا ہے اس میں ہم اس بندے کے ایک لاکھ روپے کی نیت کرلیتے ہیں۔ آیا شرعًا ایسا کرنا ہمارے لیے جائز ہے یا نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں ایک لاکھ کا قرض لے کر پانچ ہزار کا نفع دینا سود ہے ،البتہ اگر وہ شخص ایک لاکھ کا سامان خرید کر اس پر متعین نفع لگا کر آپ کو ادھار پر فروخت کرے اور ادھار کی مدت اور کل قیمت طے ہو تو یہ معاملہ درست ہوگا ،نیز مدت پوری ہونے پر باقاعدہ مزید سامان اسی طرح خرید کر دے تو درست ہوگا ،لیکن پہلے سے موجود سامان پر ہی صرف نیت کر لینے سے یہ معاملہ جائز نہ ہوگا ۔
مجلة الأحكام العدلية (50) نور محمد
البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح۔۔۔يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط۔۔۔ إذا عقد البيع على تأجيل الثمن إلى كذا يوما أو شهرا أو سنة أو إلى وقت معلوم عند العاقدين كيوم قاسم أو النيروز صح البيع۔
شرح المجلة(167)رشيدية
لان جهالته تفضي الي النزاع،فالبايع يطالب في مدة قريبة ،والمشتري يأ با ها فيفسد البيع۔
بحوث في قضايا فقهية معاصرة ( 12) دار القلم
اما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثون، فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد، بشرط أن يبت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم، وبثمن متفق عليه عند العقد، فأما إذا قال البائع: أبيعك نقدا بكذا ونسيئة بكذا، وافترقا على ذلك، دون أن يتفقا على تحديد واحد من السعرين، فإن مثل هذا البيع لا يجوز، ولكن إذا عين العاقدان أحد الشقين في مجلس العقد، فالبيع جائز۔