عرض یہ ہے کہ میرے داماد نے مجھے ہفتہ کی شب فون کرکے کہا کہ آپ ہمارے گھر آجائیں بات کرنی ہے۔ میرے انکار پر اس نے بیٹی سے متعلق چھوڑنے کی دھمکی دی تو میں نے اس سے کہا دھمکی نہ دینا جو بھی ہے میں نہیں آرہا۔ اسی دوران تھوڑی دیر بعد پھر فون آیا میں نے پھر انکار کر دیا کہ میں نہیں آرہا۔ پھر مشورے کے بعد میں نے فون کیا اور کہا میں آرہا ہوں۔ اور میں میری اہلیہ چلے گئے۔ اور میں ان کے تا یا اور والد کے ساتھ بیٹھ گیا۔ داماد اور تایا نے بولنا شروع کیا۔ تو میں نے ان کے سوالوں کے جواب دیئے جس پر داماد نے غصہ میں کہا کہ میری طرف سے آپ کی بیٹی کا کوئی تعلق نہیں میں نے اس کو فارغ کیا۔ پھر بحث و مباحثہ کرتے رہے اور تھوڑی دیر بعد اس نے اس بات کو دوبارہ کہا میرے سے کوئی تعلق نہیں ہے آپ اسے اپنے ساتھ لیکر جائیں پھر میری بیٹی میرے پاس آئی اور شوہر سے بات کرنا چاہی تو اس سے کہا کہ میرے منہ نہ لگ میں نے تجھے اپنے نکاح سے خارج کردیا، خارج ہوگئی تو میرے نکاح سے ۔ اور تقریبا ۱۵ سے ۲۰ دن پہلے وہ میری بیٹی کو ساتھ لیکر کہیں جارہا تھا بیٹی نے جانے سے منع کیا تو اس نے کہا جاؤ تم میری طرف سے آزاد ہو۔ چند سیکنڈ کے وقفہ میں جملہ پورا کرتے ہوئے بولا کہ آزاد ہو اپنے فیصلوں میں ۔ تو میری بیٹی نے بولا کہ یہ کیا الفاظ بولے ہیں تو اس نے کہا کہ میرا مطلب یہ ہے کہ تم اپنے فیصلوں میں اپنی مرضی کی مالک ہو۔
بشرط صحت بیان صورت مسئولہ میں”تعلق نہیں ، فارغ کیا ” کے جملوں سے اگر شوہر کی نیت طلاق کی تھی تو ایک طلاق بائن واقع ہوگی ۔
اور اگر ” تعلق نہیں ، فارغ کیا ” کے جملوں سے طلاق کی نیت نہیں تھی تو ” تجھے اپنے نکاح سے خارج کیا ،خارج ہوگئی تو میرے نکاح سے “کے جملوں سے ایک طلاق بائنہ واقع ہوگی ۔
لہذا بہر دو صورت ایک ہی طلاق بائن واقع ہوگی ۔کیونکہ بائن بائن کو لاحق نہیں ہوتی ۔ ایک طلاق بائن کا حکم یہ ہے کہ اس سے نکاح ختم ہوگیا ہے اب تجدید نکاح کے بغیر دونوں کا ساتھ رہنا جائز نہیں،تاہم باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ عدت کے اندر یا عدت کےبعد دوبارہ نکاح ہوسکتاہے اور نکاح کےبعد آئندہ شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا حق باقی رہےگا۔(ماخوذ از فتاوی عثمانی (2/ 376) مکتبہ معارف القرآن کراتشی)
:الفتاوى الهندية (1/ 376)
لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع. . . .وإذا قال لها أبرأتك عن الزوجية يقع الطلاق من غير نية في حالة الغضب وغيره كذا في الذخيرة
:الدر المختار (3/ 308)
(لا) يلحق البائن (البائن) إذا أمكن جعله إخبارا عن الأول۔
:الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (9/ 6955)مكتبه رشيديه
لا يستطيع الرجل بعده أن يعيد المطلقة إلى الزوجية إلا بعقد جديد ومهر. وهو الطلاق قبل الدخول أوعلى مال أو بالكناية عند الحنفية۔