بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

گھریلو استعمال کے لیے مشترک پانی سے ترکاری وغیرہ کو سیراب کرنا

سوال

ایک نالہ ہے بستی والوں نے مشترکہ طور پر ایک چھوٹی سی ٹینکی سے پائپ لائنیں اپنے گھروں کی طرف لائے ہیں اور عرف میں یہ پانی گھریلو استعمال کے لیے متعین ہے،نیز اس میں یہ صراحت نہیں کہ کوئی بندہ اس سے اپنی ترکاری وغیرہ کے باغ کو پانی دے سکتا ہے یا نہیں ؟اب ایک بندہ اس پانی سے اپنی ترکاری کو سیراب کرتا ہے جس سے پانی کی کمی کی وجہ سے دوسروں کی حق تلفی ہو رہی ہے آیا اس شخص کے لیے ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

مذکورہ صورت میں چونکہ علاقے کے عرف میں پانی گھریلو روز مرہ کے استعمال کے لیے خاص ہے،لہذا کسی شخص کا گھریلو استعمال کے علاوہ (ترکاری وغیرہ کو سیراب کرنے میں )استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں ، خاص کر جب اس فعل سے دوسرے لوگوں کی حق تلفی ہو رہی ہو تو ایسا کرنے سے اجتناب لازم ہے۔
سنن ابن ماجه (كتاب الاحكام،باب من بنی فی حقہ)
عن أبي صرمة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «من ضار أضر الله به، ومن شاق شق الله عليه۔۔
فيض القدير (6/ 431) المكتبة التجارية الكبرى
(لا ضرر) أي لا يضر الرجل أخاه فينقصه شيئا من حقه۔
بدائع الصنائع (6/ 189) دار الكتب العلمية
وأما الثالث: الماء الذي يكون في الأنهار التي تكون لأقوام مخصوصين فيتعلق به أحكام۔۔۔ وليس لصاحب النهر أن يمنع من الشفة وهو شرب الناس والدواب، وله أن يمنع من سقي الزرع والأشجار؛ لأن له فيه حقا خاصا وفي إطلاق السقي إبطال حقه؛ لأن كل واحد يتبادر إليه فيسقي منه زرعه وأشجاره فيبطل حقه أصلا۔
المبسوط للسرخسي (23/ 174) دار المعرفة
 قال: والمسلمون جميعا شركاء في الفرات، وفي كل نهر عظيم أو واد يستقون منه، ويسقون منهالشقة، والخف، والحافر ليس لأحد أن يمنع أحدا من ذلك؛ لأن الانتفاع بمثل هذه الأنهار كالانتفاع بالطرق العامة فكما لا يمنع أحد أحدا من التطرق في الطريق العام فكذلك لا يمنعه من الانتفاع بهذا النهر العظيم، وهذا؛ لأن الماء في هذه الأنهار على أصل الإباحة ليس لأحد فيه حق على الخصوص فإن ذلك الموضع لا يدخل تحت قهر أحد؛ لأن قهر الماء يمنع قهر غيره فالانتفاع به كالانتفاع بالشمس، ولكل قوم شرب أرضهم، ونخلهم، وشجرهم، لا يحبس عن أحد دون أحد، وإن أراد رجل أن يكري منه نهرا في أرضه فإن كان ذلك يضر بالنهر الأعظم لم يكن له ذلك، وإن كان لا يضر به فله ذلك بمنزلة من أراد الجلوس في الطريق فإن كان لم يضر بالمارة لم يمنع من ذلك، وإن كان يضر بهم في المنع من التطرق يمنع من ذلك لكل واحد منعه من ذلك الإمام وغيره في ذلك سواء فكذلك في النهر الأعظم فإن كسر ضفة النهر الأعظم ربما يضر بالناس ضررا عاما من حيث إن الماء يفيض عليهم، وقال – عليه الصلاة والسلام – «لا ضرر، ولا ضرار» في الإسلام، وعند خوف الضرر يمنع من ذلك لدفع الضرر۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس