میرے والد صاحب نے اپنی محنت سےگھر تعمیر کیا جسکے گراونڈ فلور پر اپنی دونوں ازواج، بیٹا اور بیٹی کے ساتھ تاحیا ت رہتے رہے۔ اور بالائی پورشن کو کرایہ پر دیا جس کا کرایہ وہ خود وصول کرتے تھے اور اپنے گھریلو استعمال میں لاتے رہے، اپنی زندگی میں جبکہ ابتداء میں ہی انہوں نے اس گھر کو اپنے بیٹے کے نام ۱۸ سال کی عمر میں کردیا تھا۔
اس سال ۲۰۲۳ میں والد صاحب کی وفات ہوگئی ہے اب جب وراثت کی تقسیم کا معاملہ شروع ہوا تو بھائی اس گھر کو تقسیم نہیں کررہا کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ والد صاحب اس کو اپنی زندگی میں ہبہ کر گئے تھے لہٰذا یہ تمام وارثین کو تقسیم نہیں ہوگا۔
شرعاً ہبہ مکمل ہونے کےلیے ضروری ہے کہ جسے ہبہ کیا جار ہا ہے اسے حصہ جد اکرکے مالک وقابض بنا کر دے دیا جائے ۔ صرف کاغذات میں نام کردینے سے ہبہ مکمل نہیں ہوتا۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر آپ کے والد مرحوم نے اپنی زندگی میں بالائی منزل آپ کے مذکورہ بھائی کو مالک وقابض بنا کر نہیں دی اور کرایہ بھی ساری زندگی خود ہی وصول کرتے رہے تو ایسی صورت میں ہبہ مکمل نہیں ہوا ۔ اور بالائی پورشن بھی مرحوم کے ترکہ میں شامل ہوکر تمام ورثاء کا مشترکہ حق ہوگا۔
الفتاوى الهندية (4/ 377):
ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط.
الدر المختار (5/ 690):
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه، أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط.