بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن

مطلوبہ فتوی کے حصول کے لیے الفاظ منتخب کریں

عنوان کا انتخاب کریں

.

ورثاء میں صرف ایک بیوہ ہو تو تقسیم میراث کااصول

سوال

ایک شخص جو کہ 500000 کی مالیت چھوڑ کر فوت ہوگیا۔ اس کے ورثاء میں صرف ایک بیوی ہے وہ شخص اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اس لیے اس کے بہن بھائی نہیں ہیں۔اس کے دادا ، دادی اور ماں باپ پہلے سے انتقال کرچکے ہیں۔ چچا ، تایا میں کوئی رشتہ دار باقی نہ ہے نہ ہی اس کی کوئی اپنی اولاد ہے۔ یعنی لا ولد ہے ۔ اب رشتہ داروں میں صرف ایک بیوی ہی ہے اس کے ترکہ کی رقم میں سے بیوی کو کیا ملے گا؟ اگر بیوی کو صرف اس کا حصہ ملے گا تو باقی رقم کہاں جائے گی ۔شرعی لحاظ سے راہ نمائی فرماکر معاونت فرمائیں۔
نوٹ: وہ شخص بنگلہ دیش سے ہجرت کرکے پاکستان آیاتھا اس کی عمر 80 سال تھی ۔ اس نے اپنی زندگی میں بتایاتھا کہ میں تنہا ہوں میرے ورثاء میں کوئی بھی نہیں ہے ۔ نہ ہی کسی سے میرا رابطہ ہے۔ میرا کوئی خاندانی فرد موجود نہیں ہے۔

جواب

اصولی طور پر ذوی الفروض کو ان کا مقرر کردہ شرعی حصہ ملنے کےبعد بقیہ مال مرحوم کے عصبہ اقرب کا حق ہوتا ہے۔ اور مرحوم كے اصول یعنی والد دادا پڑدادا (اوپر تک) میں سےکسی کی بھی مذکر اولاد موجود ہو وہ عصبات میں داخل ہے لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے خاندان کے بارے میں اگر کچھ معلومات حاصل ہوجائیں اور اس کے عصبات موجود ہوں تو بیوی کو میراث کا چوتھائی حصہ دینے کے بعد بقیہ مال سب سے زیادہ قریبی عصبہ کو دے دیا جائے ،اور اگر واقعۃً مرحوم کے خاندان کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہ ہوسکیں اور بیوی کے علاوہ کوئی شرعی وارث نہ مل سکے تو سارا مال بیوی کو دے دیں۔
:في الدر المختار (6/ 787)
(فإن فضل عنها) أي عن الفروض (و) الحال أنه لا (عصبة) ثمة (يرد) الفاضل (عليهم بقدر سهامهم) إجماعا لفساد بيت المال (إلا على الزوجين) فلا يرد عليهما …قلت: وفي الأشباه أنه يرد عليهما في زماننا لفساد بيت المال۔
:في رد المحتار تحته (6/ 788)
(قوله: وفي الأشباه إلخ) قال في القنية ويفتى بالرد على الزوجين في زماننا لفساد بيت المال، وفي الزيلعي عن النهاية ما فضل عن فرض أحد الزوجين يرد عليه وكذا البنت والابن من الرضاع يصرف إليها وقال في المستصفى والفتوى اليوم بالرد على الزوجين، وهو قول المتأخرين من علمائنا، وقال الحدادي: الفتوى اليوم بالرد على الزوجين، وقال المحقق أحمد بن يحيى بن سعد التفتازاني: أفتى كثير من المشايخ بالرد عليهما إذا لم يكن من الأقارب سواهما لفساد الإمام وظلم الحكام في هذه الأيام۔
darulifta

دارالافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ  کا ایک نمایاں شعبہ دارالافتاء ہے۔ جو کہ عرصہ 20 سال سے عوام کے مسائل کی شرعی رہنمائی کی خدمات بخوبی  سرانجام دے رہا ہے

سوال پوچھیں

دار الافتاء جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ سے تحریری جوابات  کے حصول کے لیے یہاں کللک کریں

سوشل میڈیا لنکس